ہمارا آقا ﷺ — Page 121
ہمارا آقا ع 121 جب حاطب کو ڈھونڈتا ہوا اُس کے خیمہ میں گیا تو اُس شخص کو وہاں بیٹھا ہوا دیکھ کر کہنے لگا کہ اگر حاطب بھاگ گیا تو کیا ہوا۔اُس کا بدلہ اس شخص سے کیوں نہ لیا جائے جو اُس کے خیمہ میں بیٹھا ہے اور اس وقت اُس کا قائمقام ہے۔حالانکہ بنی معاویہ کے اس شخص کو پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا قصہ ہوا؟ مگر یزید نے غصہ میں آکر فوراً اس پر حملہ کر دیا۔ایک سیکنڈ کے بعد اُس بے گناہ کی لاش فرش خاک پر تڑپ رہی تھی۔اس پر اوس اور خزرج کے قبائل کے درمیان اس زور شور کی جنگ ہوئی کہ خدا کی پناہ ! لڑائی کے دوران میں بعض لوگوں نے با ہم مسلح کروانی چاہی اور یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کا جو مالی اور جانی نقصان ہوا ہے، اُس کا تاوان اور معاوضہ ہم ادا کر دیں گے۔مگر قبیلہ اوس کے سردار عمرو بن نعمان اور خزرج کے رئیس حفیر بن سماک نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔جب دونوں طرف کے ہزاروں آدمی قتل ہو چکے ، بہت سی عورتیں بیوہ ہو چکیں سینکڑوں بچے یتیم ہو چکے ، تب جا کر کہیں لڑائی تھی۔جاہلیت کی تاریخ میں یہ لڑائی جنگ حاطب کے نام سے مشہور ہے غرض یونہی روز ہوتی تھی تکرار اُن میں یونہی چلتی رہتی تھی تلوار اُن میں