ہمارا آقا ﷺ — Page 117
117 (7) ہمارا آقاعل الله بنی ظفر کا ایک شخص رایج نام اونٹ خرید کر اپنے علاقہ کو لے جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ اسی طرح جار ہا تھا کہ بنی نجار کے ایک شخص کے پاس سے گزرا جو اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ربیع کو دیکھ کر کہنے لگا : " کہو بھئی تم کون ہو؟ کہاں سے آ رہے ہو؟ کہاں جار ہے ہو؟“ ریچ نے کہا نہیں بتاتے اور توہو چھنے والا کون ہوتا ہے؟ اور یہ بتلا کہ تو نے یہ کیوں پوچھا کہ تم کہاں جار ہے ہو؟ اور یہ بھی بتلا کہ تجھے یہ پوچھنے کا کیا حق تھا ؟ یہ کہہ کر ایک ہی وار میں اُس کا سراڑا دیا۔اس کے نتیجے میں بنوظفر اور بنو نجار میں وہ زور شور کی جنگ ہوئی کہ خدا دے اور بندہ لے۔(8) ذیل کا واقعہ عربوں کی جہات کا شاہکار ہے۔سینے اور اُن کی درندگی پر تعجب کیجئے :۔بیٹھے بیٹھے ایک روز خبر نہیں کیا خیال آیا کہ بنی بیاضہ کے سردار عمر و بن نعمان نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ جس جگہ رہتے ہو، یہ ہرگز آدمیوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے۔پانی کی یہاں قلت ،گھاس کی یہاں کمی ، اناج کا یہاں فقدان ،کھیتی یہاں ندارو ، آب و ہوا یہاں کی خراب ،غرض