ہمارا آقا ﷺ — Page 99
ہمارا آقا عدل ساتھ اب مر کر ہی چھوڑوں گا۔“ 99 آقا نے غلام کی وفاداری کا یہ ولولہ انگیز مظاہرہ دیکھا تو فرط شفقت سے اُس کا ہاتھ پکڑا اور خانہ کعبہ میں لے گئے۔باپ اور چچا ساتھ تھے۔کعبہ میں اُس وقت قریش کے چند معزز لوگ بیٹھے باتیں کر رہے الله تھے۔اُن کے سامنے پہنچ کر نو جوان آقا ﷺ نے فرمایا :۔وو جو صاحبان اس وقت یہاں موجود ہیں۔وہ اس بات کے گواہ ر ہیں کہ میں آج سے زید کو آزاد کرتا اور اپنا بیٹا بنا تا ہوں۔یہ میرا وارث ہو گا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔“ باپ اور چچا پاس کھڑے تھے۔اُن کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ کوئی لڑکا اپنے والدین کو چھوڑ کر غیر شخص کی غلامی پر فخر کر سکتا ہے اور کوئی آقا اپنے غلام سے اس قدر رحم اور ایسی شفقت کا برتاؤ کرسکتا ہے۔دونوں بھائیوں کے لئے ایک طرف عقیدت و محبت اور دوسری طرف ہمدردی و شفقت کا یہ نظارہ بڑا عجیب وغریب تھا، وہ حیران ہو گئے اور سمجھ نہ سکے کہ دنیا میں ایسے آقا اور ایسے غلام بھی ہو سکتے ہیں تا ہم جب انہوں نے دیکھا کہ لڑکا کسی صورت سے بھی اُن کے ساتھ جانے پر رضا