حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 77

حمامة البشرى LL اردو ترجمه ألم يعلموا أن الله صرّح فی القرآن کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن العظيم بأن المتنصرين ما أشركوا میں تصریح کر دی ہے کہ نصاری مسیح کی وما ضلوا إلا بعد وفاة المسيح كما وفات کے بعد ہی مشرک بنے ہیں جیسا کہ يُفهم من آية ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنى كُنتَ اس آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَني۔۔۔سے سمجھا أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ فلو لم جاتا ہے۔پس جبکہ تو نے مجھے مار دیا تو پھر تو 19 يُتَوَفَّ المسيح إلى هذا الزمان للزم ہی ان کا نگہبان تھا۔پس اگر مسیح نے اب من هذا أن يكون المتنصرون على تك وفات نہیں پائی تو لازم آئے گا کہ الحق إلى هذا الوقت ويكونوا نصارى اب تک حق پر ہیں اور مومن اور موحد بھی ہیں۔مؤمنين موحدين۔بقية الحاشية - ولا تتجاوزهم أبدا إلى يوم بقیه حاشیہ اور کبھی ان سے باہر نہ جاوے گا جیسا کہ القيامة، كما قال الله تعالى وَجَاعِلُ الَّذِينَ خداوند کریم نے فرمایا ہے کہ ” میں تیرے تا بعد اروں اتَّبَعُوْتَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔“ القيمة ومعلوم أن المتبعين للمسيح في الحقيقة اور ظاہر ہے کہ مسیح کے حقیقی متبع مسلمان ہیں اور ادعائی المسلمون، والمتبعين بالادعاء النصارى، والآية اور مجازی نصاریٰ ہیں اور آیت نفس اتباع کی طرف تشير إلى الاتباع فقط حقيقيًّا كان أو ادّعائيا۔اشارہ کرتی ہے خواہ وہ حقیقی ہو یا ادعائی۔اور حق یہ والحق أن الاتباع الحقيقي عسير جدا ولو ہے کہ حقیقی اتباع بہت مشکل ہے خواہ اتباع کا مدعی كان مدعى الاتباع ملكا من المسلمين المؤمنين، فإن اتباع الأنبياء على وجه الحقيقة مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ انبیاء کی حقیقی اور کامل اتباع کچھ آسان امر نہیں ہے۔پس یہ سب والكمال ليس بهين، فكل من الملوك يتبع بادشاہ حضرت عیسی کے صرف دعوی کی حد تک متبع ہیں عیسی عليه السلام باتباع ادعــائـى اگر چہ اس میں حقیقت کی بھی کچھ بُو ہو، الا ماشاء اللہ۔وإن كانت فيه رائحة من الحقيقة إلا ما شاء الله۔نعم قد سبق المسلمون في الاتباع ہاں مسلمان اعتقادی اتباع میں اوروں پر سبقت لے الاعتقادي وفهموا تعليم المسيح كما هو هو گئے ہیں اور انہوں نے ٹھیک ٹھیک مسیح کی تعلیم کو سمجھا ہے المائدة : ١١٨ ال عمران : ۵۶