حَمامة البشریٰ — Page 58
حمامة البشرى ۵۸ اردو ترجمه ،، فاسألوا الذين يظنون أنه افتراء پس جو لوگ بدظنی سے کہتے ہیں کہ یہ خود ساختہ منحوت أهذه علامات المفترين؟ وكانوا افترا ہے اُن سے یہ تو پوچھو کہ یہ مفتریوں کی يقرأون من قبل كتابي "البراهين علامتیں ہیں۔اور جو باتیں اب میں نے مفصل ويجدون فيه مجملا كل ما قلت في کہی ہیں ان کو مجمل طور پر پہلے سے میری کتاب هذه الأيام مفصلا، وكانوا يحبون براہین میں پڑھتے تھے اور اس کتاب سے پیار ذلك الكتاب ويصدقون إلهامات کرتے تھے اور مذکورہ الہاموں کی تصدیق کرتے مذكورة ولا يُعرضون كالمنکرین تھے اور منکرین کی طرح اعراض نہ کرتے تھے بقية الحاشية ـ والـعـجـب مـن القوم أنهم بقیہ حاشیہ۔اور پھر اس قوم پر سخت تعجب ہے کہ نزول مسیح يفهمون من نزول عيسى نزوله من السماء سے یہی خیال کرتی ہے کہ وہ آسمان سے اترے گا اور ويزيدون لفظ "السماء" من عندهم، ولا تجد آسمان کا لفظ اپنی طرف سے ایزاد دیتے ہیں اور کسی صحیح أثرا منه في حديث۔وأما ما ذكر في قصة نزول حدیث میں اس کا کوئی اثر و نشان نہیں اور نزول مسیح کے عيسى أنه ينزل واضعًا كَفَّيه على جناحی قصہ میں جو یہ آیا ہے کہ وہ ملائکہ کے کاندھوں پر ہاتھ الملائكة، فليس هذا اللفظ دليلا على نزوله رکھے ہوئے اترے گا تو اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ وہ من السماء ، وقد جاء مثل هذا اللفظ في آسمان سے اترے گا کیونکہ طالب علموں کے فضائل کے فضائل الذي يخرج من بيته لطلبِ علم الدین، بارہ میں بھی حدیث میں ایسا ہی آیا ہے جبکہ وہ علم دین کی وكذلك نظائره كثيرة في الأحاديث، ولو لم طلب میں گھر سے نکلتے ہیں اور اس کی حدیثوں میں بہت يكن خوف طول المكتوب لذكرتُ كلها بل نظیریں ہیں اور اگر خط لمبے ہونے کا خوف نہ ہوتا تو میں الحق الذي كشف الله على أمر يقبله كل سب کو تحریر کرتا بلکہ حق وہ۔سب کو تحریر کرتا بلکہ حق وہ ہے جو خدا نے مجھ پر منکشف مؤمن طالب الحق، ولا يأبى إلا الذى لا يتخذ فرمایا ہے اور ہر ایک طالب حق مومن اس کو قبول کر سکتا سبيل المهتدين، وهو أن نزول المسيح عند ہے ہاں جو ہدایت کی راہ سے منکر ہو۔وہ اس سے بھی انکار المنارة البيضاء شرقي دمشق واضعًا كَفَّیه علی کر سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ملائکہ کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے أجنحة ملكين إشارة إلى شيوع أمره في بلاد ہوئے سپید منارہ کے پاس دمشق کے شرقی جانب میں مسیح کے الشام خالصًا من العلل السماوية، منزّها عن اترنے سے یہ مراد ہے کہ اُس کی بات محض سماوی اسباب سے دخل الأسباب الأرضية، وعن دخل سلطانها ملک شام میں پھیل جاوے گی اور اُس میں زمینی اسباب اور ودولتها وعساكرها وأفواجها ومس تدابیرها، بادشاہت اور لشکر اور فوج اور تدابیر کا کچھ بھی دخل نہیں ہو گا۔