حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 52

حمامة البشرى ۵۲ اردو ترجمه وإن كنت في شك فاقرأ البخاری اور اگر تجھے شک ہے تو تدبر سے بخاری کو تدبرًا، فستجد تلك القصص فى پڑھ تو جا بجا ان قصوں کو پائے گا۔پس ان علماء أكثر مقاماته۔فما حال هؤلاء أنهم لا کو کیا ہوا کہ وہ قرآن کو بجز سوئے ہوئے يقرأون القرآن إلا كالغافلين غافلوں کی طرز کے نہیں پڑھتے اور اس کو النائمين، ولا يفهمونه حق فهمه، بل پورے طور پر نہیں سمجھتے بلکہ قرآن تو اُن کے القرآن لا يجاوز حناجرهم، ولا حلقوں سے نہیں اترتا اور نہ وہ اس کی اتباع يتبعونه ولا يبتغون نوره، بل يحملونه کرتے ہیں اور نہ اس کے نور کو چاہتے ہیں بلکہ جنازہ على هيئة الجنائز، ولا ينظرون کی شکل پر اس کو اٹھاتے ہیں اور استفادہ اور ١٣ إليه بنية الاستفادة و أخذ العلوم علوم اور معارف حاصل کرنے کی نیت سے اس پر والمعارف، كانهم في شك عظيم نظر نہیں ڈالتے گویا کہ ان کو اس میں بڑا شک ہے بقية الحاشية ولا يخفى على المتدبر أن بقیہ حاشیہ۔اور سوچنے والے پر مخفی نہیں ہے کہ یہ آیت هذه الآية دليل قطعي على أن المسلمين اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ مسلمان اور نصاریٰ قیامت والنصارى يرثون الأرض ويتملكون أهلها إلى تک زمین کے وارث رہیں گے کیونکہ مسلمان تو مسیح يوم القيامة، لأن المسلمين اتبعوا المسيح اتباعًا حقيقيا، والنصارى اتبعوه اتباعا کے حقیقی متبع ہیں اور نصاریٰ ادعائی رنگ میں متبع ہیں اور ادعائيا۔وقد وقع في الخارج كما قال الله واقعہ میں بھی خدا کے ارشاد کے مطابق پایا گیا ہے کیونکہ تعالى، وكانت الكرة الأولى للمسلمين في زمین پر غالب ہونے کی نوبت پہلے مسلمانوں کو ملی اور اس غلبتهم على الأرض، ثم في زماننا هذا غلبت النصارى ونسلوا من كل حدب۔فوقع كما زمانہ میں اب نصاری غالب ہو گئے ہیں اور ہر ایک أخبر عنه في الآية الكريمة، فالآية تحكم أن بلندی سے اُترتے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ میں صاف التملك والغلبة محدود في المسلمين پایا جاتا ہے کہ قیامت تک اب غلبہ مسلمانوں اور والنصارى إلى يوم القيامة، والدجّال المعهود نصاری میں محدود ہے اور مسلمانوں کا خیالی دجال نہ تو المتصوّر في أذهان المسلمين لا يكون على عقيدة النصارى ولا على عقيدة أهل الإسلام نصاری کے عقیدہ پر ہو گا اور نہ اہلِ اسلام کے مذہب پر۔