حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 367

حمامة البشرى ۳۶۷ اردو ترجمه مَدَحْتُ اِمَامَ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّهُ لَارُفَعُ مِنْ مَّدْحِيْ وَأَعْلَى وَ اَكْبَرُ میں نے انبیاء کے امام کی مدح کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ میری مدح سے بالا اور اعلیٰ اور اکبر ہے۔دَعُوا كُلَّ فَخْرِ لِلنَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اَمَامَ جَلَالَةِ شَانِهِ الشَّمْسُ أَحْقَرُ ہر فخر کو نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ہی لئے رہنے دو۔آپ کی جلالت شان کے سامنے تو سورج بھی بہت حقیر ہے۔وَصَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا أَيُّهَا الْوَرَى وَذَرُوا لَهُ طُرُقَ التَّشَاجُرِ تُوْجَرُوا اور اے تمام لوگو! اس پر درود و سلام بھیجو اور اس کی خاطر جھگڑے کی راہیں چھوڑ دو کہ اجر پاؤ۔وَ وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ تَبِعْتُ مُحَمَّدًا وَفِي كُلّ أَن مِّنْ سَنَاهُ أَنَوَّرُ اور خدا کی قسم ! یقیناً میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور ہر لحظہ آپ کی روشنی سے ہی منور ہورہا ہوں۔وَ فَوَّضَنِي رَبِّي إِلَى رَوُضِ فَيُضِهِ وَإِنِّى بِهِ أَجْنِي الْجَنَى وَ أُنضَّرُ مجھے میرے رب نے آپ کے فیض کے باغوں کے سپرد کر دیا ہے اور یقیناً میں آپ کے ذریعہ ہی پھل چنا اور تر و تازہ کیا جاتا ہوں۔وَلِدِينِهِ فِي جَذْرِ قَلْبِي لَوْعَةٌ وَإِنَّ بَيَانِي عَنْ جَنَانِي يُخْبِرُ اور آپ کے دین کے لیے میرے دل کی گہرائی میں ایک تڑپ ہے۔اور یقیناً میرابیان میرے دل کی حالت کی خبر دے رہا ہے۔وَرِثْتُ عُلُومَ الْمُصْطَفَى فَاَخَذْتُهَا وَكَيْفَ اَرُدُّ عَطَاءَ رَبِّي وَ أَفْجُرُ میں مرد مصطفے کے علوم کا وارث ہوا سو میں نے ان کو لے لیا اور میں اپنے رب کی عطا کو کیسے رد کروں اور گنہگار بنوں۔وَ كَيْفَ وَ لِلإِسْلَامِ قُمْتُ صَبَابَةً وَأَبْكِي لَهُ لَيْلًا نَّهَارًا وَ أَضْجَرُ اور یہ ہو کیسے سکتا ہے حالانکہ اسلام کی تائید کے لئے میں از راہ عشق کھڑا ہوں اور اسی کے لیے رات دن روتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔وَ عِنْدِي دُمُوعٌ قَدْ طَلَعْنَ الْمَاقِيَا وَعِنْدِي صُرَاحٌ مِثْلَ نَارٍ مُّسَمَّرُ اور میرے آنسو آنکھوں کے کونوں سے باہر آگئے اور میری چیخ و پکار بھڑکائی ہوئی آگ کی طرح ہے۔تَضَوَّعَ إِيْمَانِي كَمِسْكِ خَالِصِ وَقَلْبِى مِنَ التَّوْحِيدِ بَيْتٌ مُعَطَّرُ میرا ایمان خالص کستوری کی طرح مہک پڑا ہے اور میرا دل توحید کی وجہ سے ایک معطر گھر بنا ہوا ہے۔وَفِي كُلِّ أَن يَأْتِيَنُ مِنْ خَالِقِي غِذَائِي نَمِيرُ الْمَاءِ لَا يَتَغَيَّرُ (١٠٨) اور ہر لحظہ میرے پاس میرے خالق کی طرف سے میری غذا آ رہی ہے، جو ایسا خالص مصفا پانی ہے جو تغیر پذیر نہیں ہوتا۔تُضِيءُ الظُّلامَ مَعَارِفِي عِنْدَ مَنْطِقِى وَقَوْلِى بِفَضْلِ اللَّهِ دُرِّ مُنَوَّرُ میری گفتگو کے وقت میرے معارف ظلمت کو روشنی سے بدل دیتے ہیں اور میرا اقول اللہ کے فضل سے روشن موتی ہے۔