حَمامة البشریٰ — Page 358
حمامة البشرى ۳۵۸ اردو ترجمه وَ مِنْ كُلِّ جِهَةٍ كُلُّ ذِنْبِ وَنَمْرَةٍ يَعِيُتْ بِوَنُبِ وَالْعَقَارِبُ تَأْبَرُ اور ہر طرف سے ہر بھیڑیا اور چیتا حملے کے ذریعہ تباہی ڈال رہا ہے اور بچھو کاٹ رہے ہیں۔وَعَيْنُ هِدَايَاتِ الْكِتَابِ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِيْنُ وَالْأَرَامُ يَمْشِي وَيَعْبُرُ اور کتاب اللہ کی ہدایتوں کا چشمہ گدلا ہو گیا ہے۔اس چشمے میں جنگلی گا ئیں اور ہرن چل اور گزر رہے ہیں۔تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ عَاصِفٍ وَاَرْخَى سُدُولَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُكَذِرُ گمراہیاں تند ہوا کی طرح نظر آ رہی ہیں اور تاریکی پیدا کرنے والی رات نے گمراہی کے پردے لٹکا دیئے ہیں۔وَلِلدِّينِ اطلالٌ أَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمُعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں جنہیں میں افسردہ شخص کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے آنسو اس کے محلات کی یاد میں بہہ رہے ہیں۔ارَى الْعَصْرَ مِنْ نَّوْمِ الْبَطَالَةِ نَائِمًا وَكُلُّ جَهُوْلٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَرُ میں زمانہ کو باطل پرستی کی نیند میں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ہر جاہل اپنی خواہشوں میں اتر آ رہا ہے۔وَ لَيْلًا كَعَيْنِ الظَّبي غَابَتْ نُجُومُهُ وَدَاءً لِشِدَّتِهِ عَنِ الْمَوْتِ تُخْبِرُ اور میں ہرن کی آنکھ جیسی سیاہ رات کو دیکھ رہا ہوں کہ اس کے ستارے غائب ہو گئے ہیں۔اور اس بیماری کو دیکھ رہا ہوں جو اپنی شدت کی وجہ سے موت کی خبر دے رہی ہے۔نَسُوا نَهْجَ دِينِ اللَّهِ حُبُنًا وَّغَفَلَةً وَاَفْعَالُهُمْ بَغَى وَفِسْقٌ وَّ مَيْسِرُ انہوں نے دینِ الہی کا راستہ خبث اور غفلت سے بھلا دیا ہے اور ان کے افعال بغاوت، فسق اور جوا بازی ہیں۔وَمَا هَمُّهُمْ إِلَّا لِحَظِ نُفُوسِهِمْ وَمَا جَهْدُهُمْ إِلَّا لِعَيْشِ يُوَفَّرُ اور ان کا سارا فکر صرف حظ نفوس کے لئے ہے اور ان کی ساری کوشش صرف عیش وعشرت کے لئے ہے جو بڑھائی جارہی ہے۔وَقَدْ ضَيَّعُوا بِالْجَهْلِ لَبَنَا سَائِفًا وَلَمْ يَبْقَ فِي الْأَقْدَاحِ إِلَّا مَاضِرُ اور انہوں نے نادانی سے خوشگوار دودھ ضائع کر دیا ہے اور پیالوں میں صرف کھٹا دودھ باقی رہ گیا ہے۔وَ رَكْبُ الْمَنَايَا قَدْ دَنَاهُمْ بِسَيْفِهِمْ وَهُمْ خَيْلُ شُحْ مَا دَنَاهُمْ تَحَسُّرُ اور موتوں کا قافلہ اپنی تلوار کے ساتھ ان کے قریب آ گیا ہے اور یہ لوگ حرص کے شاہسوار ہیں (اس پر ) افسوس ان کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔تَصِيدُهُمُ الدُّنْيَا بِعَظْمَةِ مَكْرِهَا فَيَاعَجَبًا مِنْهَا وَمِمَّا تَمُكُرُ اپنے عظیم مکر سے دنیا ان کا شکار کر رہی ہے پس اس دنیا پر تعجب ہے اور اس کے مکر پر بھی جو وہ کر رہی ہے۔تُذَكَّرُ افَلَاسًا وَّجُوْعًا وَّفَاقَةٌ فَتَدْعُو إِلَى الْأَثَامِ مِمَّا تُذَكَّرُ وہ انہیں افلاس، بھوک اور فاقہ یاد دلاتی ہے پھر ان باتوں کو یاد دلانے سے انہیں گناہوں کی طرف دعوت دیتی ہے۔