حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 346

حمامة البشرى ۳۴۶ اردو ترجمه وقال تعالى : وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ اور اللہ تعالیٰ نے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيْثُ لا فَحَيْثُ وروى ابن جریر فی فرمایا ہے۔نیز ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ابویسرة تفسيره عن أبي يسرة غفارى أن غفاری سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام ) شکر الصحابة كانوا لا يحسبون الشكر صرف اظہار شکر کی شرط کے ساتھ ہی شکر تصور شكرًا إلا بشرط الإظهار، لأن الله کرتے تھے۔کیونکہ ارشاد ربانی ہے کہ لین تعالى قال لَبِنْ شَكَرْتُمْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَبِنْ كَفَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَبِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيد اور دیلمی نے (اپنی کتاب) إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔وروی الدیلمی فی فردوس میں اور ابو نعیم نے (اپنی کتاب) حلیة الاولیاء ”الفردوس“ وأبو نعيم في الحلية“ میں روایت کی ہے کہ (حضرت) عمر بن خطاب أن عمر بن الخطاب رقى المنبر ممبر پر چڑھے اور فرمایا کہ سب تعریف اللہ کو زیبا وقال الحمد لله الذی صیرنی کم ہے جس نے مجھے ایسا بنایا کہ مجھ سے بڑھ کر (اس ليس فوقى أحد۔فسأله الناس عن وقت کوئی دوسرا نہیں۔اس پر لوگوں نے آپ ذلك القول، فقال ما قلتُ إلا سے اس قول کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے شكرًا لنعمة الله تعالى۔وأما ما قال فرمایا کہ میں نے یہ نہیں کہا مگر اللہ تعالیٰ کی نعمت الله تعالى فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ ، کے شکر کے طور پر اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ففرق بين تزكية النفس كه فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ کے پس اپنے آپ کو وإظهار النعمة، وإن كانا مزکی ٹھہرانے اور اظہار نعمت کے درمیان فرق کر۔مشابهين في الصورة۔فإنك إذا اگر چہ یہ دونوں بظاہر صورت مشابہ ہیں۔پس عزوت الكمال إلى نفسك جب تو کمال کو اپنے نفس کی طرف منسوب کرے لے ہر ایک نعمت جو خدا سے تجھے پہنچے اس کا ذکر لوگوں کے پاس کر۔(الضحی:۱۲) ہے اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں اپنی دی ہوئی نعمت کو زیادہ کروں گا اور بصورت کفر عذاب میرا سخت ہے۔(ابراهیم: ۸) سے تم اپنے آپ کو مرگی مت کہو۔(النجم:۳۳)