حَمامة البشریٰ — Page 16
حمامة البشرى ۱۶ اردو ترجمه فسـألـنـي عـن الهند وعن السفر تو [ اُس نے مجھ سے حالات سفر اور حالات ہند دریافت وأحواله، فأخبرتـه بـالذى حصل کئے تو میں نے سب حالات و واقعات سنا دیئے اور وأخبرته عن دعواكم، وفهمته علی آپ کے دعوی کی بھی اُس کو خبر دی اور اچھی طرح أحسن ما يكون، ففرح بذلك، اُس کو سمجھایا۔چنانچہ وہ اس سے بہت خوش ہوا۔اور وقلت له: هو رجل حلیم عظيم إذا میں نے اس کو یہ بھی کہا کہ وہ بڑے حلیم اور عظیم الشان رآه المؤمن يُصدق به۔فالكلمات شخص ہیں جب مومن ان کو دیکھتا ہے تو ضروران التي فهمتها إياه طفق يذكرها عند کی تصدیق کرتا ہے۔جو باتیں اُس کو سمجھائی تھیں كل أحد من الناس، وقال لی: متى اُس نے ہر ایک کے پاس اُن کا ذکر شروع کر دیا يجيء إلى مكة؟ قلت له : إذا أراد اور مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ کہ وہ مکہ میں کب آئیں الله سبحانه وتعالى يجيء إلى مكة گے۔میں نے کہا کہ جب اللہ چاہے گا تو جلد شرفها الله تعالى عن قريب۔والآن آجائیں گے۔اور اب حضرت نے کچھ عربی کتابیں ألف كتبا عربية في إثبات دعواه اپنے دعویٰ کے اثبات میں لکھی ہیں جو یہاں بھیجنا يريد أن يرسلها إن شاء الله تعالى۔ا چاہتے ہیں [ ان شاء اللہ تعالی ]۔یہ وہ باتیں هذا ما قلت لعلى طائع ثم لما أن ہیں جو علی طائع سے ہوئیں۔پھر جب میں نے یہ أردت إرسال هذا الكتاب، قلت له خط روانہ کرنا چاہا تو میں نے کہا کہ میں حضور کی خدمت أنا أريد أن أرسل لـمولانا كتابا۔میں یہ خط بھیجنا چاہتا ہوں تو اس نے کہا کہ خط میں یہ فقال لي: قل له في الكتاب يُعجل : بإرسال الكتب التي ألفها ويُعجل بھی عرض کر دو کہ اپنی مؤلفہ کتا ہیں جلد ارسال فرمائیں بالمجيء بنفسه إلى مكة۔فقلت اور خود بھی مکہ میں تشریف لانے کی جلدی کریں۔له حتى يأذن الله۔وقلت له لولا میں نے اُس کو کہا کہ یہ اللہ کے اذن پر موقوف ہے مخافة الفتن ما تركت الكتب التي اور اگر فتنہ کا خوف نہ ہوتا تو میں حضور کی کتابوں کو کبھی ألفها مولانا وجئت بها۔فقال لی نہ چھوڑتا بلکہ ضرور ساتھ لاتا۔اس نے کہا کہ کیوں لم خفت؟ لو جئتَ بها لكان خيرا ڈر گئے۔کاش تم اپنے ساتھ لاتے تو بہتر ہوتا۔