حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 196

حمامة البشرى ١٩٦ اردو ترجمه وتجد في كل مقام ذِكْر وفاته اور تو ہر جگہ اس کی وفات کا ذکر پائے گا۔بقية الحاشية صفحه ۱۹۵ - هذا قوله بقیه حاشیہ صفحہ ۱۹۵۔یہ اس (بے علم ) شخص کا قول اور واستدلاله، ولكن لو كان هذا الرجل مُطلعا استدلال ہے۔لیکن اگر اس شخص کو اس آیت کے شان نزول سے على شأن نزول هذه الآية لرجع من قوله، بل آگہی ہوتی تو وہ ضرور اپنے قول سے رجوع کر لیتا۔بلکہ ایسے ما التفت إلى معنى يخالف طريق المعقول معنی کی طرف متوجہ ہی نہ ہوتا جو معقولی اور منقولی دونوں طریق والمنقول، وما تكلم بالفضول، وكان من کے خلاف ہے اور فضول کلام نہ کرتا اور شرمساروں میں سے المتندمين۔فاسمع أيها العزيز! إن اليهود كانوا ہو جاتا۔پس اے عزیز ! سن کہ یہودی تو راہ میں یہ پڑھتے يقرأون في التوراة أن الكاذب في دعوى النبوة تھے کہ نبوت کے دعویٰ میں دروغکوئی کرنے والا شخص قتل کیا يُقتل، وإن الذي صُلب فهو ملعون لا يُرفع إلى جاتا ہے اور جو صلیب دیا جائے تو وہ ملعون ہوتا ہے اور اس کا الله۔وكانت عقيدتهم مستحكمة على ذلك، اللہ کی طرف رفع نہیں ہوتا اور ان کا اس پر پختہ عقیدہ تھا۔بقية الحاشية صفحه ١٩٣ـ والـعـجب منهم بقیه حاشیہ صفحہ ۱۹۴۔اور تعجب ہے ان پر کہ وہ ہم پر افتراء کرتے أنهم يفترون علينا ويحسبون كانا ترکنا ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ گویا ہم نے مسیح کے مادی جسم کے النصوص القرآنية في رفع المسيح بجسمه ساتھ اٹھائے جانے کے بارے میں نصوص قرآنیہ کو ترک کر دیا العنصري، فليتدبر العاقل ههنا۔۔أنحن ہے ایک عقلمند کو یہاں غور کرنا چاہئے کہ کیا قرآن اور اس کی نصوص تركنا القرآن ونصوصه في هذه العقيدة أم کو اس عقیدے میں ہم نے چھوڑا ہے یا وہ چھوڑنے والے هم كانوا تاركين؟ وقالوا إن الله عزوجل ہیں؟ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ عز و جل نے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ قال بَل رَّفَعَهُ اللهُ، ويحتجون بهذه الآية اليه ) کے الفاظ ) فرمائے ہیں۔اور وہ اس آیت سے صحیح کے جسم على رفع جسم المسيح، ولا يتدبرون ان کے اٹھائے جانے پر دلیل پکڑتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ الأمر لو كان كذالك لتعارض الآيتان۔۔۔معاملہ ایسا ہی ہوتا تو لازماً (ان) دو آیتوں میں تعارض پیدا ہو جاتا۔بقية الحاشية تحت الحاشية فالحاصل أن بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔حاصل کلام یہ کہ لفظ توفی ایسا لفظ نہیں لفظ " توقى" ليس كلفظ يُفسّره أحد برأيه، بل جس کی تفسیر کوئی شخص اپنی رائے سے کر سکے۔بلکہ اس کا تَوَفَّى أوّل مفسره القرآن من حيث إنه ذكر هذا اللفظ پہلا مفسر قرآن ہے اور وہ اس طور پر کہ اس نے اس لفظ في كل مقامه بمعنى الإمانة وقبض الروح، والمفسر کا استعمال ہر جگہ وفات دینے اور قبض روح کے معنوں الثاني رسولُ الله صلى الله عليه و سلم میں کیا ہے اور دوسرے مفسر رسول اللہ ﷺ ہیں۔1