حَمامة البشریٰ — Page 173
حمامة البشرى ۱۷۳ اردو ترجمه وله شأن عظیم فی الرأى الصائب، اور جنہیں صائب رائے ہونے میں عظیم الشان ولـرأيــه مـوافـقة بأحكام القرآن مرتبه حاصل ہے اور جن کی رائے کئی موقعوں پر في مواضع، ومع ذلك هو مُلهم احكام قرآنی کے عین مطابق ہوئی ہے، مزید برآں ومن المحدثين وإن وفاة نبينا یہ کہ وہ لہم اور محدثین میں سے ہیں۔اور ہمارے صلى الله عليه و سلم للمسلمين نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بلاشبہ مسلمانوں مصيبة ما أصيبوا بمثله۔۔فلیس کے لئے ایک ایسی مصیبت تھی کہ اُس جیسی مصیبت من العجب أن يرجع نبينا صلي ان پر کبھی نہیں ٹوٹی۔پس جائے تعجب نہیں کہ ہمارے الله عليه وسلم إلى الدنيا، نبی صلی اللہ علیہ سلم دنیا میں واپس لوٹیں۔بلکہ آپ بل رجوعه إلى الدنيا أحق کا واپس لوٹنا تو مسیح کے واپس لوٹنے سے کہیں زیادہ وأولى وأنفع من رجوع المسيح ،درست ، مناسب اور مفید اور منفعت بخش وحاجة المسلمين إلى وجودہ اور آپ کے وجو د مبارک کی ضرورت مسلمانوں المبارك أشد وأزيد من حاجتهم كو مسیح کے وجود کی ضرورت سے کہیں شدید اور إلى وجود المسيح۔لكنهم ما زیادہ ہے۔لیکن انہوں نے ان الفاظ میں حضرت ردوا على الصديق بهذه الكلمات ابوبکر صدیق کی تردید نہیں کی۔بلکہ وہ سب خاموش بل سكتوا كلهم ونبذوا من أيديهم ہو گئے۔اور انہوں نے اپنے ہاتھ میں سے انکار سهام الإنكار، وقبلوا قوله، کے تیر پھینک دیئے اور آپ کی بات قبول کی اور وبكوا وقالوا إنا لله وإنا إليه رو پڑے اور ” إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون “ کہا اور راجعون۔ونظروا إلى موت الأنبياء و تمام انبیاء کی وفات پر تدبر کرتے ہوئے اس كلهم واطمأنوا بها، فإنهم بات سے سے مطمئن ہو گئے کہ وہ سب وفات پاچکے ہے۔ماتوا كلهم وما كان أحد منهم ہیں اور اُن میں سے کوئی ایک بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔من الخالدين۔