حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 837 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 837

837 ٨- فَالنُّبُوَّةُ سَارِيَةٌ إلى يَوْمِ القِيَامَةِ فِي الخَلْقِ وَإِنْ كَانَ التَّشْرِيعُ قَدْ انْقَطَعَ فَالتَّشْرِيعُ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النَّبُوَّةِ - (فتوحات مكية، سوال الثالث والثمانون : ما النبوة ؟ جلد 2 صفحة 89) نبوت قیامت کے دن تک مخلوق میں جاری ہے۔اگر چہ شریعت منقطع ہو چکی ہے۔کیونکہ شریعت نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔٩) - لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَ صَارَ نَبِيَّاً وَ كَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيَّاً لَكَانَ مِنْ اتْبَاعِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةَ وَ السَّلَام كَعِيسَى وَ الخَضَرِ وَ الْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى " وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذَ المَعْنى : إِنَّهُ لايَاتِي نَبِي بَعْدَهُ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَ لَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ ،، (موضوعات الكبرى صفحه 192) امام ملا علی القاری نے اس حدیث کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے اور اسی طرح اگر عمر نبی بن جاتے تو وہ آنحضرت صلی ا یکم کے پیروکاروں میں سے ہوتے۔جس طرح عیسی، خضر اور الیاس علیہم السلام ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین سے متناقض نہیں ہے جبکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی ا یکم کے بعد ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ مایل نیم کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ صلی للی نیم کی امت میں سے نہ ہو۔سة (۱)۔انبیاء کے کامل تابعین ان کی کمال فرمانبرداری اور ان سے انتہائی محبت کی بناء پر محض خدا تعالیٰ کی عنایت اور موہبت سے اپنے متبوع انبیاء کے تمام کمالات کو جذب کر لیتے ہیں اور پورے طور پر ان کے رنگ