حدیقۃ الصالحین — Page 836
836 (٢) وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ أَن يَكُونَ نَبِيًّا وَيَكُون مُتَابِعًا لِنَبِيْنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيَانِ أَحْكَامِ شَرِيعَتِهِ، وَإِتْقَانِ طَرِيقَتِهِ، وَلَوْ بِالْوَحْيِ إِلَيْهِ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة ، كتاب المناقب و الفضائل ، باب مناقب علی بن ابی طالب الله ، زير روايت 6087 أَنْتَ مِنّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى)) ان دو باتوں میں کوئی منافات نہیں کہ (ایک پہلو سے) وہ نبی ہوں۔اور دوسری طرف ہمارے نبی صلی یکلم کے الله م تابع ہوں۔حضور صلی الی یکم کی شریعت کے احکام کے بیان میں اور حضور علی یم کی طریقت کی مضبوطی قائم کرنے میں خواہ ان معاملات میں ان کی طرف وحی ہی کیوں نہ ہو۔- فإِنَّ النَّبُوَّةُ الَّتِي انْقَطَعَتْ بِوُجُوْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ نَبُوَةُ التَّشْرِيعِ لَا مُقَامُهَا فَلَا شَرْعٌ يَكُون نَاسِخاً لِشَرْعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔و هذا معنى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرِسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ“ أَي لا نَبِيَّ بَعْدِي يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِي، بَل إِذَا كَانَ يَكُوْن تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَتِي (فتوحات مكية، باب الثالث والسبعون فى معرفة عدد ما يحصل من الاسرار۔۔۔، جلد 2 صفحة 6) رسول اللہ صلی الل نیلم کے قول " ان الرسالة و النبوة قد انقطعت فلارسول بعدی و لانبی “ کے یہی معنی ہیں۔یعنی کوئی نبی ایسی شریعت پر نہیں آئے گا جو میری شریعت کے مخالف ہو۔جب بھی (کوئی نبی ) ہو گا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہو گا۔