حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 824 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 824

824 حضرت قریش کے لوگوں کو جب یہ بتایا گیا کہ عاصم بن ثابت قتل کر دئے گئے ہیں تو انہوں نے کچھ لوگ بھیجے جو رت عاصم کی لاش سے اس قدر حصہ کاٹ کر لائیں جس سے وہ پہچانے جائیں کیونکہ حضرت عاصم نے اُن کے سر داروں میں سے ایک بڑے شخص کو قتل کیا تھا۔اللہ نے حضرت عاصم پر بھڑوں کا ایک دل بادل کی طرح بھیج دیا جس نے قریش کے بھیجے ہوئے آدمیوں سے انہیں بچایا۔اس لئے وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی نہ کاٹ سکے۔1010- عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ شَهِدْتُ مِنَ المِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ مَشْهَدًا، لَأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا عُدِلَ بِهِ، أَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى المُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاً، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ فَرَأَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ (بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ۔۔۔۔۔۔الأنفال: 10، روایت نمبر 3952) طارق بن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن مسعودؓ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے مقداد بن اسود کی بات کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اگر مجھ کو حاصل ہو جاتا تو وہ ان تمام نیکیوں سے مجھے عزیز تر ہوتا جو ثواب میں اس (ایک منظر) کے برابر ہوں۔ہوا یوں کہ مقداد نبی صلی علیم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکوں کے خلاف دعا کر رہے تھے اور کہنے لگے : ( یار سول اللہ !) ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح موسیٰ کی قوم نے کہا تھا: جاتو اور تیر ارب دونوں جاکر لڑو، نہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔میں نے نبی صلی علی نام کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ چپکنے لگا اور مقد اڈ کی اس بات نے آپ کو خوش کر دیا۔1011- عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ شَكَا أَهْلُ الكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَزَلَهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا، فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ لَا يُحْسِنُ يُصَلِّى، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ يَا أَبَا