حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 823 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 823

823 عامر کو جنگ بدر کے دن منتقل کیا تھا۔چنانچہ حضرت خبیب ان کے پاس قیدی رہے۔آخر انہوں نے ان کو مار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔حضرت خبیب نے حارث کی ایک بیٹی سے اُستر اعاریہ مانگا کہ اس سے ناف کے بال صاف کریں۔اس نے اُن کو استر اعاریہ دے دیا۔اس کا ایک چھوٹا بچہ رینگتے ہوئے حضرت طبیب کے پاس آیا اور وہ بے خبر تھی، اس نے حضرت خبیب کو دیکھا کہ وہ اپنی ران پر اُس کو بٹھائے ہوئے ہیں اور اُستر ان کے ہاتھ میں ہے، کہتی تھی: میں یہ دیکھ کر ایسی گھبر ائی کہ خبیب نے میری گھبراہٹ معلوم کرلی اور کہا کیا تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا؟ میں ایسا کبھی نہیں کرنے کا۔کہتی تھی: اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بڑھ کر نیک قیدی کبھی نہیں دیکھا۔اللہ کی قسم ! ایک دن میں نے انہیں دیکھا کہ انگور کا خوشہ ہاتھ میں لئے انگور کھا رہے تھے اور وہ اس وقت لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور اُن دِنوں مکہ میں کوئی پھل نہ تھا۔اور کہتی تھی: وہ ایسا رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو دیا۔جب اُن کو حرم کی سرحد سے باہر لے کر گئے تا اُن کو ایسی جگہ قتل کریں جہاں قتل جائز ہے۔حضرت خبیب نے ان سے کہا مجھے دور کعت نماز پڑھ لینے دو۔انہوں نے اجازت دے دی۔حضرت خبیب نے دور کعتیں ادا کیں۔پھر کہنے لگے: بخدا! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم لوگ یہ خیال کرو گے کہ جو میری حالت نماز میں تھی وہ موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے ہے تو میں زیادہ پڑھتا، پھر کہنے لگے: اے اللہ ! ان میں سے ایک بھی جانے نہ پائے اور انہیں پراگندہ کر کے ہلاک کر اور ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑ۔پھر یہ شعر پڑھنے لگے: جبکہ میں مسلمان ہو کر مارا جارہا ہوں مجھے پرواہ نہیں خواہ کسی کروٹ پر اللہ کیلئے گروں اور یہ میر اگر ناخدا کی خاطر ہے اور اگر وہ چاہے تو ان جوڑوں میں برکت دے دے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہوں۔اس کے بعد ابو برقعہ عقبہ بن حارث ان کے پاس گیا اور اس نے انہیں قتل کر دیا اور حضرت خبیب ہی وہ ہیں جنہوں نے ہر ایسے مسلمان کیلئے جو بے بسی کی حالت میں مارا جائے یہ نمونہ قائم کیا کہ وہ دور کعت) نماز ادا کرے۔اور نبی صلی الی یکم نے اپنے صحابہ کو حضرت عاصم اور اُن کے ساتھیوں کے شہید ہونے کی اسی دن خبر دے دی تھی جب وہ شہید ہوئے۔