حدیقۃ الصالحین — Page 769
769 966۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِي قَالَ إِنَّ لَمَهْدِينَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النَّصْفِ مِنْهُ ، وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ سنن الدار قطني كتاب العيدين باب صفة صلاة الخسوف والكسوف (1795) 13 حضرت محمد بن علی ( یعنی حضرت امام باقر ) نے فرمایا ( پیشگوئی کے مطابق ) ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ایسے ہیں کہ جب سے زمین و آسمان پید اہوئے وہ کسی کی صداقت کے لئے اس طرح ظاہر نہیں ہوئے۔اول یہ کہ اس کی بعثت کے وقت رمضان میں چاند گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ (یعنی تیر و رمضان ) کو چاند گرہن لگے گا اور سورج گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ ( یعنی اٹھائیس 28 رمضان ) کو سورج گرہن لگے گا اور یہ دونشان اس رنگ میں پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔نوٹ :۔یہ دونوں نشان 1894ء میں ظاہر ہو چکے ہیں۔967 در اربعین مذکور آمده است خروج از مترية كدعه باشد بقول النبي صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ الْمَهْدِى مِن قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا كَدْعَهُ وَيُصَدِّقُهُ الله تَعَالَى وَيَجْمَعُ اللهُ تَعَالَى مِنْ أَقصى الْبِلادِ وعَلى عدد بَدْرٍ بِثَلاثِ مِائَةٍ وَ ثَلاثَ عَشَرَ رَجُلا وَ مَعَهُ صَيْقَةٌ ومَةٌ فيها عَدَدُ أَصْحَابِهِ بِأَسْمَاعِهِمْ وَ بِلادِهِمْ وَ جَلالِهِمْ (جواہر الاسرار (قلمی نسخه صفحه (43) مصنفہ حضرت شیخ علی حمزہ بن علی الملک الطوسی ( صاحب جواہر الاسرار لکھتے ہیں کہ اربعین میں یہ روایت بیان ہوئی ہے کہ) آنحضرت صلی الم نے فرمایا مہدی ، ایسے گاؤں سے مبعوث ہو گا جس کا نام ” کدعہ “ ہو گا۔اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق میں نشان دکھائے گا۔اور