حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 684 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 684

684 حضرت ابو ہریر گا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ کوئی اور ہم ہے نہ کوئی سازو سامان ہے اس پر آپ نے فرمایا میری امت میں تو مفلس وہ ہے۔جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوۃ کے ساتھ پیش ہو گا مگر اس طرح آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی اور کسی پر بہتان لگایا ہو گا اور کسی کا مال کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا اس کو اس کی کوئی نیکی دی جائے گی اور کسی کو اس کی کوئی اور نیکی اور ان کی خطائیں لی جائیں گی اور اس پر ڈال دی جائیں گی۔پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔866- سَمِعَ جَابِرَ بْن عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظُّلُمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّخَ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُوا فَحَارِمَهُمْ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابه مسند جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ 14515) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ظلم سے بچو کیونکہ علم قیامت کے دن تاریکیاں بن کر سامنے آئے گا۔حرص بخل اور کینہ سے بچو کیونکہ حرص بخل اور کینہ نے پہلوں کو ہلاک کیا اس نے ان کو خونریزی ر آمادہ کیا اور ان سے قابل احترام چیزوں کی بے حرمتی کرائی۔پر 867ـ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْهُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ مَظْلُومًا، أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ أَنْصُرُهُ ؟ قَالَ تَحْجُزُهُ، أَوْ تَمَنْعُهُ، مِنَ الظُّلْمِ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ (بخاری کتاب الاکراه باب يمين الرجل لصاحبه انه اخوه اذا خاف علیہ 6952)