حدیقۃ الصالحین — Page 667
667 نہیں فرماتا فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يسيرا تو یقیناً اُس کا آسان حساب لیا جائے گا۔آپ نے فرمایا وہ تو صرف پیشی ہے اے عائشہ ! جس سے خوب کرید کر حساب لیا گیا اسے عذاب دیا جائے گا۔852- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أَمْ سَيْفٍ، امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ، فَانْتَبَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، قَدِ امْتَلَا الْبَيْتُ دُخَانًا، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِكْ، جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمْسَكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبَّنَا، وَاسِهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ (مسلم کتاب الفضائل باب رحمته الله الصبيان و العيال و تواضعه و فضل ذلک 4265) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایارات میرے ہاں بچہ کی ولادت ہوئی۔میں نے اس کا نام اپنے باپ ابراہیم کے نام پر رکھا ہے۔پھر آپ نے اسے ایک لوہار ابوسیف کی بیوی ام سیف کے پاس بھیج دیا۔حضور صلی للی کم اس کے پاس جانے کے لئے چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ہم ابوسیف کے پاس پہنچے اور وہ بھٹی دھونک رہا تھا۔اس کا گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا۔تو میں تیزی سے رسول اللہ صلی ا یکم کے آگے چلا۔میں نے کہا اے ابو سیف !رُک جاؤ ، رسول اللہ صلی یی کم تشریف لا رہے ہیں۔وہ رُک گیا۔پھر نبی صلی علیم نے بچہ کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹایا پھر جو اللہ نے چاہا آپ نے فرمایا حضرت انس کہتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ (بچہ) رسول اللہ صلی علیم کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور رسول اللہ صلی ایم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔الله سة