حدیقۃ الصالحین — Page 651
651 بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثم يُصْبحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فَلَانُ، عَمِلْتُ البَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ (بخاری کتاب الادب باب ستر المومن على نفسه 6069) حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی املی کمر سے سنا آپ فرماتے تھے میری امت میں سے ہر ایک کو معاف کر دیا جائے گا مگر ان کو نہیں جو کھلم کھلا گناہ کریں اور یہ بھی بے حیائی ہے کہ آدھی رات کو کوئی کام کرے اور پھر صبح کو ایسی حالت میں اٹھے کہ اللہ نے اس پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے تو پھر وہ کہ کہے کہ میں نے گزشتہ رات یہ یہ کیا حالانکہ رات اس نے ایسی حالت میں گزاری کہ اس کے رب نے اس کی پردہ پوشی کئے رکھی اور وہ صبح کو اٹھتا ہے اور اپنے سے اللہ کے پر دے کو کھول دیتا ہے۔834۔عَنْ مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يُقَالُ لَهُ أَبِي كَثِيرُ ، قَالَ أَتَيْتُ عُقْبَةَ بْن عَامِرٍ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، قَالَ دَعْهُمْ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَلَا أَدْعُو عَلَيْهِمُ الشُّرَطُ ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ دَعْهُمْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِة الله و (مسند احمد بن حنبل ، مسند الشاميين ، مسند عقبہ بن عامر الجهني عن النبي عام 17465) حضرت عقبہ بن عامر” کے مولیٰ جن کا نام ابو کثیر تھا بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقا عقبہ بن عامر کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ ہمارے پڑوسی شراب پی رہے ہیں۔عقبہ نے فرمایا جانے دو۔پھر میں ان کے پاس دوبارہ گیا اور کہا کیا میں پولیس کو نہ بلا لاؤں ؟ عقبہ نے فرمایا تیر ابراہو! کہا جو ہے جانے دو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی الی کلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔جس نے کسی کی کمزوری دیکھی اور پردہ پوشی سے کام لیا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی زندہ در گور لڑکی کو اس کی قبر سے نکالا اور اسے زندگی بخشی۔