حدیقۃ الصالحین — Page 648
648 حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی الیکم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا اللہ تعالیٰ سے حیا کرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔صحابہ نے عرض کیا ہم حیا کرتے ہیں اے اللہ کے نبی ! الحمد للہ۔آپ نے فرمایا یوں نہیں بلکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے حیار کھتا ہے وہ اپنے سر اور اس میں سمائے ہوئے خیالات کی حفاظت کرے۔پیٹ اور اس میں جو خوراک وہ بھرتا ہے اس کی حفاظت کرے موت اور ابتلاء کو یادر کھنا چاہئے۔جو شخص آخرت پر نظر رکھتا ہے وہ دنیاوی زندگی کی زینت کے خیال کو چھوڑ دیتا ہے پس جس نے یہ طرز زندگی اختیار کیا اس نے واقعی اللہ تعالیٰ سے حیا کی۔828- عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ الفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ (ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء فى الفحش و التفحش 1974) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اسے بد نما بنا دیتی ہے اور حیا جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔829 - حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلامِ النُّبُوَّةِ الأُولَى : إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ بخاری کتاب الادب باب اذا لم تستحى فاصنع ما شئت (6120) حضرت ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا پہلی نبوت کے کلام سے جولوگوں نے محفوظ رکھا یہ بھی ہے کہ جب تم حیا نہیں کرتے تو پھر تم جو چاہو کرو۔