حدیقۃ الصالحین — Page 639
639 815- عن عبد الله بن مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم ألا أخبركم من تَحْرُمُ عَلَى النَّارِ أَوْ مَن تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ عَلى كُلِ قَرِيبٍ هَيْنٍ سَهْلٍ (ترمذى كتاب القيامة والرقائق باب ما جاء فى صفة اوانى الحوض 2488) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا کیا میں تم کو بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے ؟ وہ حرام ہے ہر اس شخص پر جو لوگوں کے قریب رہتا ہے۔یعنی نفرت نہیں کرتا ان سے نرم سلوک کرتا ہے۔ان کے لئے آسانی مہیا کرتا ہے اور سہولت پسند ہے۔816 - أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْن عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي المَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجُلًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمُ مُيَسِرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِرِينَ (بخاری کتاب الوضوء باب صب الماء على البول في المسجد 220) حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ ایک بدوی کھڑا ہوا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔لوگوں نے اسے برا بھلا کہا۔اس پر نبی صلی علیکم نے ان سے کہا اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہادو۔سجل کا لفظ (کہا) یا ذُنُوب کا۔اور تم صرف اس لئے مبعوث کئے گئے ہو کہ آسانی کرنے والے بنو اور تم سختی کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے۔817 - عن أبي سعيد الخُدْرِي، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا فِرَاسَةَ المُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَثِمِينَ۔۔۔۔۔وَ قَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الآيَةِ : إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَثِمِينَ قَالَ لِلْمُتَفَرِّسِينَ (ترمذی کتاب التفسير باب و من سورة الحجر (3127)