حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 634 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 634

634 رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ؟ فَقَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَبْشِرُوا وَأَقِلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ ، كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكُكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ (مسلم کتاب الزهد والرئقاق باب الدنيا سجن للمومن وجنة الكافر (5247) حضرت عمرو بن عوف جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور بدر میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ موجود تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کریم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو جزیہ لینے کے لئے بحرین بھیجا۔رسول اللہ صل اللی کم نے بحرین والوں سے صلح کا معاہدہ کیا تھا اور حضرت علاء حضرمی کو ان پر امیر مقرر فرمایا تھا۔حضرت ابو عبیدہ بحرین سے مال لے کر آئے۔انصار نے حضرت ابو عبیدہ کے آنے کا سنا تو نماز فجر رسول اللہ صلی الم کے ساتھ ( ادا کرنے کے لئے) پہنچ گئے۔جب آپ نے نماز ادا کی تو آپ مُڑے۔وہ ان کے سامنے ہوئے تو رسول اللہ صلی الہ یکم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا میر اخیال ہے تم نے سن لیا ہے کہ بحرین سے ابو عبیدہ کچھ لائے ہیں۔انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا خوش ہو جاؤ اور اس بات کی امید رکھو جو تم کو خوش کر دے گی۔اللہ کی قسم مجھے تمہارے بارہ میں غربت کا ڈر نہیں ہے ہاں مگر تمہارے بارہ میں یہ ڈر ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی اور پھر تم اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگو جیسے انہوں نے کیا تھا اور وہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے اس نے ان کو ہلاک کیا تھا۔806- قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ (المبسوط فى الفقه الحنفى (للسرخسى) ، كتاب النكاح جلد 4 صفحه (194)