حدیقۃ الصالحین — Page 633
633 سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ ؟ قَالُوا: أَجَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ فَأَبْشِرُوا وَأَقِلُوا مَا يَسُرُكُمْ، فَوَاللَّهِ لَا الفَقْرِ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخَشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكُكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ (بخاری کتاب الجزیہ باب الجزيه و الموادعه مع اہل العرب 3158) رض حضرت عمرو بن عوف انصاری نے جو بنو عامر بن لوئی کے حلیف اور بدر میں شریک تھے۔بتایا کہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف بھیجا کہ اس کا جزیہ لائیں اور رسول اللہ صلی الیہ کم نے بحرین کے باشندوں سے صلح کر لی تھی اور حضرت علاء بن حضرمی کو ان کا امیر مقرر کیا تھا۔حضرت ابو عبیدہ بحرین کا مالیہ لے کر آئے اور انصار نے حضرت ابو عبیدہ کی آمد کی خبر سنی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آکر صبح کی نماز پڑھی۔جب آپ فجر کی نماز ان کو پڑھا چکے تو آپ مڑے۔صحابہ آپ کے سامنے آ بیٹھے۔رسول اللہ صلی علیم نے جب ان کو دیکھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا میں سمجھتا ہوں تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے آئے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا پھر تمہیں بشارت ہو اور اسی بات کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے گی۔بخدا! تمہارے متعلق مجھے محتاجی کا اندیشہ نہیں۔بلکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا تمہارے لئے اس طرح کشادہ نہ ہو جائے جس طرح ان لوگوں پر کشادہ ہوئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور پھر تم اس میں اس طرح ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کرنے لگو جس طرح انہوں نے کی اور یہ حرص تمہیں بھی ویسے ہی ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کیا ہے۔أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ فَخَرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ۔۔۔۔۔أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَزَاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَاحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِي، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةً، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ