حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 628 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 628

628 پاس بے گھر ہو کر آئے ہم نے آپ کو پناہ دی۔آپ محتاج اور بے سروسامان ہو کر آئے ہم نے آپ صلی یک کم کی محتاجی دور کی اور آپ صلی علیہم کا سہارا بنے۔اے انصار ! کیا تم ان دنیاوی چمک دمک کے سامانوں کی وجہ سے اپنے دلوں میں انقباض محسوس کرتے ہو جو میں نے قریش اور قبائل عرب کے نو مسلموں کو ان کی دلجوئی اور تالیف قلب کے طور پر دیئے ہیں۔اے انصار کیا تم اس بات سے خوش نہیں کہ لوگ تو اپنے گھر بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے جاؤ۔خدا کی قسم! جس کے قبضے اور اختیار میں محمد صلی للی کم کی جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی میں بھی انصار کا ایک فرد ہو تا۔اگر تمام لوگ ایک وادی اور ایک راہ پر چلیں اور انصار کوئی اور راہ اختیار کریں تو میں انصار کے ساتھ چلوں گا۔اے اللہ ! تو انصار پر رحم فرما۔انصار کی اولا د پر رحم فرما۔انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔حضور کی اس تقریر کو سن کر انصار زار از ر روئے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں اور عرض کیا حضور ! ہم آپ صلی ہم سے راضی ہیں آپ کی تقسیم پر راضی ہیں۔کچھ نا سمجھ لوگوں کے منہ سے ایسی ناز بیا با تیں نکلی ہیں اور سنجیدہ اور بزرگ انصار اس سے بیزار ہیں۔بہر حال اس صورت حال کو سلجھنے کے بعد رسول اللہ صلی اہلیہ کی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔اور لوگ بھی اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارُ الْمَنُ لِلهِ وَلِرَسُوْلِهِ، وَالْفَضْلُ عَلَيْنَا وَعَلَى غَيْرِنَا، فَقَالَ مَا حَدِيث بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ فَسَكَتُوْا، فَقَالَ: مَا حَدِيثُ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ أَمَّا رُؤَسَاؤُنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئاً، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيقَةٌ أَسْنَانُهُمْ، قَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ تَعَالَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشاً وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوْفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاعِهِمْ (سيرة الحلبيه ، تتمه باب ذکر مغازيه ، غزوة الطائف ، جلد 3 صفحه 176)