حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 627 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 627

627 حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الیکم نے قریش اور عرب کے قبائل میں وہ تمام مال غنیمت تقسیم فرما دیا جو فتح ہوازن و حنین میں ہاتھ لگا تھا اور انصار کو کچھ نہ ملاتو انصار کے کچھ لوگوں نے اپنے دلوں میں انتہاض محسوس کیا۔یہاں تک کہ اس بارہ میں چہ میگوئیاں بڑھ گئیں۔اور کسی کہنے والے نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب کیا ہے اب تو رسول اللہ صلی الی یکی اپنی قوم سے آملے ہیں اب ہماری ضرورت نہیں رہی) انصار میں سے سعد بن عبادہ نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور صلی یکم آپ کی اس تقسیم کی وجہ سے کچھ انصار کے دل میں شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ آپ صلی علیہم نے اپنی قوم کو مال غنیمت میں سے اتنے بڑے بڑے عطیات مرحمت فرمائے ہیں اور انصار کو کچھ نہیں ملا۔حضور نے فرمایا اے سعد ! تم کہاں تھے لوگوں کو سمجھانا تھا۔سعد نے عرض کیا حضور! میں بھی تو اس قوم کا ایک فرد ہوں۔میری کون سنتا ہے۔آپ نے فرمایا سعد اپنی قوم اس چوپال میں جمع کرو میں ان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔سعد" انصار کو چوپال میں جمع کرنے لگے۔مہاجرین میں سے بھی چند لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دی اور باقی مہاجرین کو لوٹا دیا۔جب تمام انصار اکٹھے ہو گئے تو آپ کو اطلاع دی کہ لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ پھر آپ تشریف لائے اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا اے انصار ! تم نے جو گلے شکوے کئے ہیں وہ مجھ تک پہنچے ہیں۔اے انصار سوچو تو میں تمہارے پاس اس وقت آیا تھا جب تم بھٹکے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں ہدایت دی۔تم تنگ دست تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں دولت مند بنایا۔تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔کیا یہ سب سچ نہیں۔انصار نے عرض کیا کیوں نہیں، خدا اور اس کے رسول کا یہ بڑا فضل و احسان ہے۔حضور نے فرمایا اے انصار ! تم میری ان باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار نے عرض کیا۔ہم کیا جواب دیں۔ہم تو اللہ اور اس کے رسول کے زیر احسان ہیں۔آپ نے فرمایا تم اگر چاہو تو یہ جواب دے سکتے ہو اور یہ جواب صحیح ہو گا کہ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے جب آپ صلی علی کم کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور تکذیب کی اور ہم نے اس وقت آپ صلی میں کمی کی تصدیق کی۔آپ پریشان حال ہمارے پاس آئے ہم نے آپ کی مدد کی۔آپ ہمارے