حدیقۃ الصالحین — Page 49
49 حضرت عرباض بن ساریہ سلمی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں لوح محفوظ میں اللہ کا بندہ اور خاتم النبیین قرار پایا ہوں جبکہ آدم ابھی تخلیق کے مراحل میں تھے۔33 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَما أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ يُصَلِّي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى الناس كافة وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاضَةٌ رسنن نسائی کتاب الغسل والتيمم باب التيمم بالصعيد (432) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ایک مہینے کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ساری زمین میرے لئے مسجد اور طہارۃ کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔جہاں بھی میری امت کے کسی آدمی پر نماز کا وقت آئے وہ وہاں نماز پڑھ سکتا ہے ( دوسرے مذاہب کی طرح انہیں عبادت خانے میں نہیں جانا پڑتا)۔مجھے شفاعت کا شرف حاصل ہواجو مجھ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں ہوا۔مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے خاص قوم کے لئے نبی مبعوث ہو تا تھا۔-34 عن عبد الله بن الحارث بن جزء، قال ما رأيت أحدا أكثر تبسما مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(سنن ترمذی کتاب المناقب باب في بشاشة النبي صلى اللہ علیہ وسلم 3641) حضرت عبد اللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی للی علم سے زیادہ مسکراتے ہوئے کسی اور شخص کو نہیں دیکھا۔(یعنی ہر وقت آپ کے چہرہ مبارک پر تبسم کھلا رہتا)۔