حدیقۃ الصالحین — Page 48
48 الله سة زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے سنا۔انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی الم نے فرمایا میں محمد صلی ال یکم ہوں اور میں احمد علی یہ کم ہوں ، میں الماحی صلی الی یکم ہوں ( یعنی مٹانے والا) میرے ذریعہ کفر مٹایا جائے گا اور میں حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور میں العاقب ہوں اور العاقب سے مراد وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔32 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتْ أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَةٌ وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ (مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب المساجد و مواضع الصلاة 804) 1 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا مجھے انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں اور رعب سے مجھے مردو دی گئی ہے اور غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں اور زمین میرے لئے پاکیزگی کا ذریعہ اور مسجد بنائی گئی ہے اور مجھے سب مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے۔نوٹ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِني عَبْد الله في أم الكتاب لعالم النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ (مسند احمد بن حنبل مسند الشاميين (17295) 1: جوامع الکلم سے مراد حضور صلی اللہ ملک کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے مختصر الفاظ ہیں جن میں کثیر معانی ہوتے ہیں۔