حدیقۃ الصالحین — Page 609
609 میں نے کہا یارسول اللہ ! اُسی کی قسم جس نے آپ کو سچائی دے کر بھیجا ہے، میں آپ کے سوا کسی سے بھی کچھ نہیں لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے چلا جاؤں۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت حکیم کو وظیفہ دینے کے لئے بلاتے تو وہ اُن سے وظیفہ لینے سے انکار کر دیتے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں بلایا کہ انہیں وظیفہ دیں تو بھی انہوں نے انکار کر دیا کہ اُن سے کچھ لیں۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا اے مسلمانوں کی جماعت! میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں حکیم کو میں (بیت المال کی آمدنی سے اُن کا حق پیش کرتا ہوں اور وہ انکار کرتے ہیں۔اُسے نہیں لیتے۔چنانچہ حضرت حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوالو گوں میں سے کسی سے کچھ نہیں لیا، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔776 - عَن أبي أُمَامَة رَضِى اللهُ عَنهُ قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم من يُبَايِع ؟ فَقَالَ ثَوْبَان مولى رَسُول الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم بايعنَا يَا رَسُول اللَّهِ ، قَالَ على أَن لا تسأل أحداً شَيْئاً فَقَالَ ثَوْبَان فَمَا لَهُ يَا رَسُول اللهِ قَالَ الْجَنَّةِ فَبَايِيعَهُ ثَوْبَان - قَالَ أَبُو أُمَامَة فَلَقَد رَأَيْته بِمَكَّة في أجمع ما يكون من الناس يسْقَط سَوْطَه وَهُوَ رَاكب فَرُبَمَا وقع على عاتق رجل فيأخذه الرجل فينا وله فَما يَأْخُذه منه حتى يكون هو ينزل فيأخذه (الترغيب والترهيب للمنذرى كتاب الصدقات باب الترهيب من المسألة و تحريمها مع الغنى۔۔۔1171) حضرت ابو امامہ بن بابلی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم نے ایک موقع پر فرمایا مجھ سے کون عہد باندھتا ہے۔رسول اللہ صلی الم کے آزاد کردہ غلام ثوبان نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں عہد باندھنے کے لئے تیار ہوں۔آپ نے فرمایا تو عہد کرو کہ تم کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگو گے۔اس پر ثوبان نے عرض کیا یارسول اللہ ! اس عہد کا اجر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا اس کے بدلہ میں جنت ملے گی۔اس پر ثوبان نے آپ کے اس عہد پر عمل کرنے کا اقرار کیا۔ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ثوبان کو مکہ میں دیکھا کہ سخت بھیڑ کے باوجو د سواری کی حالت میں اگر