حدیقۃ الصالحین — Page 608
608 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے منبر پر جبکہ آپ صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔775 - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ المُسَيَّبِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَأَعْطَانِي قم قال يا حكيم، إن هَذَا المَالَ خَفِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَن أَخَذَهُ بِسَحَاوَةٍ نَفْيس بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ اليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى، قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأَ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أَفَارِقَ الدُّنْيَا، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى العَطَاءِ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي أَشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ المُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ، أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأخُذَهُ، فَلَمْ يَرْداً حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُولِي (بخاری کتاب الزكاة باب الاستعفاف عن المسالة 1472) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا۔آپ نے مجھے دیا۔پھر میں نے آپ سے مانگا۔پھر آپ نے دیا۔پھر میں نے آپ سے مانگا۔پھر آپ نے دیا۔پھر فرمایا حکیم ! یہ مال تو ہر ابھر امیٹھا ہے۔جس نے اس کو سخاوت نفس ( یعنی استغناء) سے لیا تو اس کے لئے اس (مال) میں برکت دی جائے گی اور جس نے نفس کے لالچ سے لیا، اُس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جائے گی اور وہ اسی شخص کی مانند ہو گا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہو تا۔اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔حضرت حکیم کہتے تھے کہ