حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 585 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 585

585 میری سب سے پیاری جائیداد بیر حاء کا باغ ہے۔میں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس نیکی کو قبول کرے گا اور میرے آخرت کے ذخیرہ میں شامل کرے گا۔یارسول اللہ سة ! آپ اپنی مرضی کے مطابق اس کو اپنے مصرف میں لائیں۔رسول اللہ صلی اللی کرم فرمایا واہ واہ! بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ مال ہے ، بڑا نفع مند ہے اور جو تو نے کہا ہے وہ بھی میں نے سن لیا ہے۔میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ابو طلحہ نے کہا میں نے دے دیا یا رسول اللہ ! چنانچہ حضرت ابو طلحہ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچیرے بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔749 - عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا (بخارى كتاب الزكاة باب انفاق المال في حقه 1409) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: رشک نہیں کرنا چاہیے مگر دو ( آدمیوں) پر۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو بر محل خرچ کرنے کی توفیق دے اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح علم دیا ہو اور وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہے اور لوگوں کو بھی سکھاتا ہے۔750 - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ، وَالْجَاهِلُ السَّغِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَابِدِ الْبَخِيلِ (الرسالة قشيرية ، باب الجود و السخاء صفحه280)