حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 579 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 579

579 حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا میں قیامت کے دن تین آدمیوں کے مد مقابل ہوں گا اور جس کا میں مدمقابل ہو ا قیامت کے دن میں اس پر غالب رہوں گا۔(اللہ فرماتا ہے ) وہ شخص جو میر انام لے کر عہد کرے پھر دھو کہ دے اور ایک وہ شخص جو آزاد کو بیچ دے اور اس کی قیمت کھا جائے اور ایک وہ جو مز دور رکھے اور اس سے کام لے مگر اس کو پوری اجرت نہ دے۔738ـ قال أنش: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ، وَفِي نَفْسِى أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَاىَ مِنْ وَرَائِي، قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ؟ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ، أَنَا أَذْهَبُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنَسٌ وَ اللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ أَوْ لِشَيْءٍ ترَكْتُهُ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا (مسلم کتاب الفضائل باب كان رسول الله لم احسن الناس خلقا 4258) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علم اخلاق میں سب لوگوں سے زیادہ اچھے تھے۔ایک روز آپ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔میں نے کہہ دیا بخدا میں نہیں جاؤں گا لیکن میرے دل میں تھا کہ اس بات کے لئے اللہ کے نبی صلی علیم نے مجھے حکم دیا ہے میں جاؤں گا۔چنانچہ میں نکلا یہانتک کہ بچوں کے پاس سے گزرا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے تو رسول اللہ صلی عوام نے پیچھے سے اچانک مجھے گردن کے پچھلے حصہ سے پکڑا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھا۔آپ ہنس رہے تھے۔پھر آپ نے فرمایا اے انھیں ! کیا تم وہاں گئے ہو جہاں میں نے تمہیں (جانے کا) کہا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا جی ہاں یارسول اللہ ! میں جارہا ہوں۔حضرت انس کہتے ہیں کہ خدا