حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 574 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 574

574 (عورت) دوزخ میں داخل ہوئی۔نہ تو اس نے بلی کو کچھ کھایا اور نہ ہی پانی پلایا۔اس نے اس کو روک رکھا۔نہ خود کھانا دیا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔731ـ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةٌ مَعَهَا فَرِخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إلَيْهَا، وَرَأَى قرية تملٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَزَقَ هَذِهِ ؟ قُلْنَا: نَحْنُ۔قَالَ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَن يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ (ابوداؤد كتاب الجهاد باب في كراهية حرق العدو بالنار 2675) حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی علی ایم کے ساتھ سفر میں تھے آپ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ہم نے ایک چڑیا د یکھی اس کے پاس دو بچے تھے۔ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا تو چڑیا اپنے پروں کو پھڑ پھڑانے لگی اتنے میں رسول اللہ صلی الی یوم تشریف لے آئے۔آپ نے پوچھا اس کا بچہ پکڑ کر کس نے اس کو تکلیف دی ؟ اس کا بچہ اس کو دیدو۔اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جس کو ہم نے جلا دیا تھا آپ نے پو چھا کہ یہ کس نے جلایا ؟ ہم نے کہا ہم نے جلایا ہے۔آپ نے فرمایا کسی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ آگ سے تکلیف پہنچائے سوائے آگ کے مالک کے۔