حدیقۃ الصالحین — Page 551
551 يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرُ ؟ قَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرُ ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْراً (مسلم کتاب الزكاة باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف 1660) سة حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ نبی صلی املی کام کے بعض صحابہ نے نبی صلی الم کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ ! مالدار لوگ سب اجر لے گئے وہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال میں سے صدقہ کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو یقینا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ہر تکبیر صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل ' صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم میں سے اگر کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اپنی خواہش حرام جگہ پوری کر تا تو کیا اس پر بوجھ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے جائز طریقہ سے کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔:1 تبليل: لا إلهَ إِلَّا اللہ کہنے کو تہلیل کہتے ہیں۔