حدیقۃ الصالحین — Page 536
536 خليت سبيلهُ ؟ قَالَ أَفَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَن تَأْتُونِي بِهِ، فَإِنَّ الْإِمَام إِذا انتهى إِلَيْهِ حَد فَلَيْسَ يَنْبَغِي لَه أَنْ يُعَطِلَهُ، قَالَ ثُمَّ تَلَا: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا (مسند ابی حنیفه ، کتاب الحدود، باب بيان حرمة الخمر و القمار (312) حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بھتیجے کو جو نشہ میں دھت تھا ان کے پاس لایا۔انہوں نے اسے قید کرنے کا حکم دیا جب اس کے ہوش ٹھکانے لگے اور نشہ اتر گیا تو انہوں نے ایک کوڑا منگوایا اور اس کی اگلی گانٹھ کاٹ ڈالی اور اسے نرم کیا پھر جلاد کو بلا کر کہا کہ اس کے گوشت والی جگہ پر کوڑے لگاؤ لیکن مارتے وقت اپنے ہاتھ کو اس قدر نہ اٹھانا کہ تمہاری بغلیں ظاہر ہوں۔پھر عبد اللہ کوڑے گنے لگے یہاں تک کہ اسی (80) کی تعداد پوری ہو گئی تو اسے چھوڑ دیا۔سزا دلانے کے بعد وہ آدمی جو ملزم کو لایا تھا کہنے لگا کہ اے ابو عبد الرحمن! خدا کی قسم یہ میرا بھتیجا ہے اور اس کے علاوہ میری کوئی اولاد نہیں ہے یہ سن کر عبد اللہ بن مسعودؓ فرمانے لگے۔تو بہت بر اچھا ہے جو یتیم کا والی اور نگران تو بنا لیکن بچپن میں نہ اس کی اچھی تربیت کی اور جب وہ بڑا ہو گیا تو نہ اس کی پردہ پوشی کی۔پھر آپ نے یہ حدیث بیان کی کہ شروع کے دنوں میں سب سے پہلے ایک چور کو حد کی سزا دی گئی اسے نبی ملی لی ایم کے پاس لایا گیا تھا جب اس کے جرم کا کھلا ثبوت مل گیا تو حضور صلی ال کلیم نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔لوگ جب اسے لے کر جانے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ نیلم کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر ہے آپ پر ملال اور اداس اداس ہیں۔اس پر بعض نے عرض کیا کہ معلوم ہو تا ہے کہ حضور کو اس واقعہ کا بے حد افسوس ہے حضور صلی الیم نے فرمایا کیوں نہ افسوس ہو تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار بن جاتے ہو۔لوگوں نے عرض کیا حضور نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔اس پر آپ صلی للی کرم نے فرمایا تم میرے پاس یہ شکایت لانے سے پہلے چھوڑ سکتے تھے۔جب امام کے پاس ملزم کو لایا جائے اور جرم ثابت ہو جائے تو اس کارروائی کے بعد حد (کی سزا) واجب ہو جاتی ہے۔اور امام (قاضی) یہ سزا معطل نہیں کر سکتا یہ فرمانے کے بعد آپ میلی لی ہم نے یہ آیت پڑھی وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا (النور: 23) یعنی عفو اور در گزر سے کام لیا کرو۔