حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 41 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 41

41 علیحدہ اور واضح ہوتے۔اس میں کوئی زائد بات نہ ہوتی اور نہ ہی اس میں کوئی کمی ہوتی تھی۔نہ تو آپ سخت مزاج تھے نہ ہی کمزور اور بے حیثیت۔آپ ہر نعمت کی تعظیم فرماتے خواہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔کسی نعمت کی ذرا بھی مذمت نہ کرتے۔ہاں کھانے پینے کی چیزوں کی نہ مذمت کرتے نہ تعریفیں کرتے۔نہ دنیا آپ کو غصہ دلاتی نہ ہی جو اس سے متعلق ہے۔لیکن اگر حق سے تجاوز کیا جاتا یا حق غصب کر لیا جاتا تو پھر آپ کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکتی تھی جب تک آپ اس کی دادر ہی نہ کروا دیتے۔اپنی ذات کے لئے کبھی غصے نہ ہوتے اور نہ اس کے لئے بدلہ لیتے۔جب آپ اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے کرتے۔جب آپ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ الٹا دیتے اور جب آپ بات کرتے تو ہاتھ کو اس کے مطابق حرکت دیتے اور دائیں ہتھیلی کو بائیں انگوٹھے کے اندرونی حصہ پر لگاتے۔جب آپ ناراض ہوتے تو اعراض کرتے اور ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے۔جب خوش ہوتے تو آنکھیں نیچی کر لیتے۔آپ کی زیادہ سے زیادہ جنسی تبسم کی حد تک ہوتی (یعنی زور کا قہقہہ نہ لگاتے ) آپ کے دندان مبارک ایسے لگتے جیسے بادل سے گرنے والے اولے ہوتے ہیں۔24- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالقَوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَكَانَ أَزْهَرَ لَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمَ وَكَانَ رَجِلَ الشَّعْرِ لَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بُعِثَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّينَ لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلَا فِي لِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءً (المعجم الصغير للطبرانی باب من اسمه جعفر جلد 1 صفحه 118) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی ام درمیانہ قد کے تھے نہ تو بہت زیادہ لمبے اور نہ چھوٹے قد والے، آپ صلی این کم کا رنگ نکھر تا سفید تھا نہ بہت زیادہ سفید اور نہ گہرے گندم گوں رنگ والے تھے آپ صلی علیم کے بال ایک حد تک سیدھے تھے نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بالکل سید ھے۔آپ صلی ای ام جب آپ۔