حدیقۃ الصالحین — Page 513
513 اس کی اولاد کی نگران ہے پس تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا (کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کس طرح نباہا)۔650ـ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، قَالَ مَعْقِلُ :۔۔۔۔۔سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةُ، يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ عَاشُ لِوَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ (مسلم کتاب الایمان باب استحقاق الوالى الغاش لرعيته النار 195) حسن سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار مزنی کی مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے گیا تو حضرت معقل نے کہا۔میں نے رسول اللہ صلی الم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جس بندے کو اللہ تعالیٰ کسی رعیت کا نگران بنادے اور جب وہ مرے اس حال میں مرے کہ وہ رعایا کو دھوکہ دیتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْن زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْن يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلُ۔۔۔۔۔سمعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، م لَا يَجْهَدُ لَهُمْ، وَيَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلُ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ (مسلم کتاب الایمان باب استحقاق الوالى الغاش لرعيته النار 197) ابو طلیح سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو حضرت معقل نے اس سے کہا۔میں نے رسول اللہ صلی نیلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو امیر مسلمانوں کے امور کا والی بنتا ہے اور پھر ان کے لئے جد وجہد نہیں کرتا اور نہ ہی خیر خواہی کرتا ہے وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔