حدیقۃ الصالحین — Page 493
493 629 - عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: لَا خِلَافَةَ إِلَّا عَنْ مَشْوْرَةٍ (کنز العمال ، حرف الخاء ، كتاب الخلافه مع الامارة ، الباب الاول فى خلافة الخلفاء ، مسند عمر (14136: خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے لینے کے بغیر درست نہیں ( نیز خلافت کے نظام کا ایک اہم ستون مشاورت ہے)۔630 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكثَرَ مَشُورَةٌ لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ترمذى كتاب الجهاد باب ما جاء في المشورة 1714) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی علیم سے زیادہ کسی کو اپنے صحابہ سے مشورہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔631ـ عَن عَلَيَّ رَضِى الله عَنهُ قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهُ: الْأَمْرُ يَنْزِلُ بِنَا بَعْدَكَ لَمْ يَنْزِلُ فِيهِ قُرْآنٌ وَلَمْ نَسْمَعْ مِنْكَ فِيهِ شَيأً قَالَ إِجْمَعُوا لَهُ العَابِدِينَ مِنْ أُمَّتِي وَاجْعَلُوْهُ بيْنكُم شُورَى وَلَا تَقْضُوه ير أَي وَاحِدٍ (الدر المنثور في تفسير بالمأثور، سورة شورى آيت نمبر 38 وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ و امرهم شورى بينهم۔۔۔جلد 13 صفحه 168) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کے بعد ایسا معاملہ سامنے آ جاتا ہے جس کے بارہ میں نہ قرآن کریم میں کوئی تصریح ملتی ہے اور نہ آپ کی کسی سنت کا علم ہوتا ہے ایسے وقت میں کیا کیا جائے آپ نے فرمایا اصحاب علم اور سمجھدار لوگوں کو بلاؤ اور معاملہ ان کے سامنے مشورہ کی غرض سے پیش کرو اکیلے صرف اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہ کرو۔