حدیقۃ الصالحین — Page 483
483 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی الی یم نے فرمایا کوئی بھی میت نہیں جس پر مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے جو سو تک پہنچے اور وہ سب اس کی شفاعت کریں مگر اس کے بارہ میں ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے۔615ـ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا ، فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفَنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ، حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ إِنْسَانُ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَفَنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِن كَفَتَهُ كَفْتَهُ (ابو داؤد کتاب الجنائز باب في الكفن (3148 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے ایک دن خطاب فرمایا اور (حضرت جابر بن عبد اللہ نے ) آپ کے ایک صحابی کا ذکر کیا جو فوت ہو گیا۔تو اس کو ایک معمولی کفن میں کفن دیا گیا اور رات کو دفن کر دیا گیا۔نبی صلی الم نے تنبیہ کی کہ آدمی کو رات کو دفنایا جائے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے سوائے اس کے کہ آدمی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔اور نبی صلی علیم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اس کو اچھا کفن دے۔616- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيْنَا وَمَيْتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأَنْقَانَا اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ (ابن ماجه کتاب الجنائز باب ما جاء في الدعاء في الصلاة على الجنازة 1498)