حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 32 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 32

32 يَنقُصُ الْمِخْيَط إذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِى إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أَحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أَو فِيكُمْ إِيَّاهَا فَمَن وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدُ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ (مسلم کتاب البر والصلة باب تحریم الظلم 4660) حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ نبی صلی الیم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے جو باتیں بیان کی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ نے فرمایا اے میرے بندو میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے۔پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔تم سب گمر اہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں پس مجھ سے ہدایت طلب کر و۔اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو تم سب برہنہ ہو مگر جسے میں پہناؤں پس مجھ سے کپڑے مانگو میں تمہیں پہناؤں گا اے میرے بندو ! تم رات دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمہارے سب گناہ بخشتا ہوں پس مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں بخش دوں گا تم ہر گز طاقت نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور نہ ہی مجھے نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہو۔اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی دل رکھنے والے کی طرح ہو جائیں تو یہ میری بادشاہت میں ذرہ بھی اضافہ نہ کر سکے گا۔اے میرے بندو اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سے سب سے زیادہ فاجر دل رکھنے والے آدمی کی طرح ہو جائیں تو یہ میری بادشاہت میں کچھ کمی نہ کر سکے گا۔اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن ایک میدان میں کھڑے ہوں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب عطا کروں تو یہ اس میں سے کچھ بھی کمی نہ کرے گی جو میرے پاس ہے۔سوائے اس قدر جتنا ایک سوئی کم کرتی ہے۔جبکہ وہ سمندر میں ڈالی جائے اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں میں تمہارے اعمال (ہی) تمہارے لئے محفوظ رکھتا ہوں۔پھر میں تمہیں وہ پورے پورے دوں گا۔پس جو خیر پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا ( کچھ ) پائے تو صرف اپنے نفس کو (ہی) ملامت کرے۔