حدیقۃ الصالحین — Page 441
441 عَنِ الشَّعْبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ - وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيْنَ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيْنَ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ، وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمَى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ فَحَارِمُهُ ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ، صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ، فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ (مسلم کتاب المساقاة باب اخذ الحلال و ترك الشبهاة 2982) ا حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے اور نعمان اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں تک لے گئے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الم کو فرماتے سنا ہے کہ حلال (بھی) واضح ہے اور حرام ( بھی ) واضح ہے اور ان دونوں کے در میان مشتبہ باتیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچالیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں داخل ہو گیا۔اس چرواہے کی طرح جو کسی محفوظ علاقہ کے گرد (جانور) چراتا ہے بعید نہیں کہ وہ (جانور) اس ( چراگاہ) کے اندر چرنے لگ جائے۔خبر دار ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور سنو ! اللہ کا منوعہ علاقہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔سنو ! جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہو گا۔اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہو گا اور سنو وہ دل ہے۔544- عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثًا عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ، يَأْتُونا بلخمان لا نذرِى يَذْكُرُونَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا أَمْ لا ؟ قَالَ اذْكُرُوا أَنْتُمُ اسْمَ اللَّهِ، وَكُلُوا (بخاری کتاب التوحید باب السؤال بأسماء الله تعالى و الاستعاذة به 7398) الله سة حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم سے صحابہ نے دریافت کیا کہ حضور کچھ لوگ جو کفر سے نئے نئے نکلے ہیں ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں اور ہمیں علم نہیں کہ انہوں نے جانور کو ذبح کرتے