حدیقۃ الصالحین — Page 435
435 نے پو چھا۔یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟گھر والوں نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں عورت تحفتاً دے گئی ہے۔حضور صلی الم نے فرمایا ابو ہریرہ! میں نے کہا یا رسول اللہ حاضر ہوں۔آپ صلی الی ٹیم نے فرمایا سب صفہ میں رہنے والوں کو بلا لاؤ۔یہ لوگ اسلام کے مہمان تھے اور ان کا نہ کوئی گھر بار تھا نہ کاروبار۔جب حضور صلی الیکم کے پاس صدقہ کا مال آتا تو ان کے پاس بھیج دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے اور اگر کہیں سے تحفہ آتا تو آپ صلی نیم صفحہ والوں کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی کھاتے۔بہر حال حضور علی لیالم کا یہ فرمان کہ میں ان کو بلا لاؤں، مجھے ناگوار گزرا کہ ایک پیالہ دودھ ہے یہ اہل صفہ میں کس کس کے کام آئے گا، میں اس کا زیادہ ضرورت مند تھا تا کہ پی کر کچھ تقویت حاصل کرتا۔پھر جب اہل صفہ آجائیں اور مجھے ہی حضور صلی یکم ان کو پلانے کے لئے فرمائیں تو یہ اور بھی برا ہو گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ اور حضور علی تعلیم کے فرمان کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔چنانچہ میں اہل صفہ کو ہلا لا یا۔جب سب آگئے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو حضور صلی ٹیم نے مجھے حکم دیا کہ ان کو باری باری پیالہ پکڑاتے جاؤ ( میں نے دل میں خیال کیا مجھ تک تو اب یہ دودھ پہنچنے سے رہا)۔بہر حال میں پیالہ لے کر ہر آدمی کے پاس جاتا۔جب وہ سیر ہو جاتا تو دوسرے کے پاس، اور جب وہ سیر ہو جاتا تو تیسرے کے پاس، یہاں تک کہ آخر میں میں نے پیالہ آنحضرت صلی علیہ کم کو دیا کہ سب کے سب سیر ہو کر پی چکے ہیں۔پیالہ میں نے آپ صلی ٹیم کے ہاتھ پر رکھا۔آپ صلی علیم نے میری طرف دیکھا اور تبسم فرمایا پھر کہا ابوھریرہ! میں نے کہا یا رسول اللہ ! فرمائیے۔آپ صلی لی یکم نے ارشاد فرمایا اب تو صرف ہم دونوں رہ گئے ہیں۔میں نے عرض کیا۔حضور ٹھیک ہے اس پر آپ صلی ہیم نے فرمایا کہ بیٹھو اور خوب پی ؤ۔جب میں نے بس کیا تو فرمایا ابو ہریرہ اور پی ؤ! میں پھر پینے لگا۔چنانچہ جب بھی میں پیالے سے منہ ہٹاتا تو آپ صلی للی یکم فرماتے۔ابو ہریرہ اور پیو۔جب اچھی طرح سیر ہو گیا تو عرض کیا۔جس ذات نے آپ صلی یی کم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے اس کی قسم اب تو بالکل گنجائش نہیں چنانچہ میں نے پیالہ آپ صلی نیلم کو دے دیا آپ صلی عوام نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر بسم اللہ پڑھ کر دودھ نوش فرمایا۔