حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 434 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 434

434 أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَ فِي ذَلِكَ وَقُلْتُ مَا هَذَا القَدَحُ بَيْنَ أَهْلِ الصُّفَةِ وَأَنَا رَسُولُهُ إِلَيْهِمْ فَسَيَأْمُرُنِي أَنْ أُدِيرَهُ عَلَيْهِمْ فَمَا عَسَى أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ وَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْهُ مَا يُغْنِينِي وَلَمْ يَكُنْ بُدُّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةً، خُذِ القَدَحَ وَأَعْطِهِمْ فَأَخَذْتُ القَدَحَ فَجَعَلْتُ أَنَاوِلُهُ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّهُ فَأُنَاوِلُهُ الْآخَرَ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَى القَوْمُ كُلُّهُمْ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ القَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ أَبَا هُرَيْرَةَ اهْرَب، فَشَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ افْتَرَبْ فَلَمْ أَزَلَ أَهْرَب، وَيَقُولُ اهْرَبْ حَتَّى قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بالحق ما أَجِدُ لَهُ مَسْلَك، فَأَخَذَ القَدَحَ فَحَمَدَ اللهَ وَسَمَّى ثُمَّ قَرِب (ترمذی کتاب صفة القيامة باب ما جاء فى صفة اواني الحوض (2477) ย حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابتدائی ایام میں بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا یا زمین سے لگاتا تا کہ کچھ سہارا ملے۔ایک دن میں ایسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔میرے پاس سے حضرت ابو بکر گزرے میں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں لیکن وہ آیت کا مطلب بیان کر کے گزر گئے پھر حضرت عمرؓ کا گزر ہوا میں نے ان سے بھی اس آیت کا مطلب پوچھا۔غرض یہی تھی کہ وہ کھانا کھلائیں لیکن وہ بھی آیت کا معنی بتا کر چلے گئے پھر میرے پاس سے آنحضرت صلی لی کم گزرے تو آپ صلی ہم نے تبسم فرمایا میری حالت دیکھی اور میرے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا۔حضور صلی الی یکم نے بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا اے ابوہریرہ! میں نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول ! حاضر ہوں۔آپ صلی یی یکم نے فرمایا میرے ساتھ آؤ۔میں آپ صلی اللہ ہم کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔جب آپ صلی اللہ ہم گھر پہنچے اور اندر جانے لگے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی۔میں آپ سئل علم کی اجازت سے اندر آگیا۔آپ ملکی ٹیم نے دودھ کا ایک پیالہ پایا۔آپ صلی نمیریم کی مة الشرسة