حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 429 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 429

429 فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكُلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ الذَّنْ لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ القَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، والقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة۔۔۔3578) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نے حضرت ام سلیم سے کہا میں نے رسول اللہ صلی علیکم کی الله سة الله رض آواز کمزور سنی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بھوک ہے۔کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ حضرت ام سلیم نے کہا ہاں۔یہ کہہ کر جو کی کچھ روٹیاں نکال لائیں۔پھر انہوں نے اپنی ایک اوڑھنی نکالی اور ان روٹیوں کو اس کے ایک کنارے میں لپیٹ دیا اور وہ میرے ہاتھ میں دے دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ میرے بدن پر لپیٹ دیا۔پھر انہوں نے رسول اللہ صلی علیم کی طرف مجھے بھیجا۔حضرت انس کہتے تھے میں وہ لے کر چلا گیا۔تو رسول اللہ صلی للی کم کو مسجد میں پایا۔آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی علیم نے مجھے فرمایا کیا ابو طلحہ نے تجھے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا کھانا دے کر ؟ میں نے کہا جی ہاں۔رسول اللہ صلی علیکم نے ان لوگوں سے کہا جو آپ کے پاس تھے چلو اٹھو۔آپ چل پڑے اور میں بھی آپ کے آگے آگے چل پڑا اور حضرت ابو طلحہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا۔حضرت ابو طلحہ کہنے لگے: ام سلیم ! رسول اللہ صلی کم لوگوں کو لے آئے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو اُن کو کھلائیں۔وہ بولیں: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔حضرت ابو طلحہ گئے اور جاکر رسول اللہ صلی علیم سے ملے۔رسول اللہ صلی علی ایم آئے، حضرت ابو طلحہ آپ کے ساتھ تھے۔رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا اتم سلیم ! جو تمہارے پاس ہو وہ لے آؤ۔وہ روٹیاں لے آئیں تو رسول اللہ صلی علیکم نے ان کے متعلق فرمایا وہ توڑی گئیں اور حضرت ام سلیم نے گھی کی ایک کپٹی نچوڑی اور اس کو بطور سالن کے پیش کیا۔پھر رسول اللہ صلی عوام نے ان روٹیوں پر دعا کی جو دعا اللہ نے چاہی کہ کریں۔پھر آپ نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔پھر آپ نے فرمایا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔پھر آپ نے فرما یا دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ