حدیقۃ الصالحین — Page 412
412 حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا عیادت کا ایک عمدہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی مریض کے پاس جائے اس کی پیشانی یا نبض کی جگہ پر اپناہاتھ رکھ کر اس کا حال احوال پوچھے اور آپس میں ملنے ملانے کا عمدہ طریق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملتے وقت مصافحہ کرو۔508ـ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبِ الْعَدَوِنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍ حَيْثُ سُيْرَ مِنَ الشَّامِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِذَا أُخْبِرِكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا قُلْتُ إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ ؟ قَالَ مَا لَقِيتُهُ قَدْ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلَى ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُن فِي أَهْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ (ابوداؤد کتاب الادب، ابواب السلام ، باب في المعانقة 5214) حضرت ایوب بن بشیر قبیلہ عنزہ کے ایک شخص کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے حضرت ابوذر ( غفاری) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی کم وقت ملاقات آپ لوگوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے۔اس پر حضرت ابو ذر نے بتایا کہ میں جب کبھی بھی رسول اللہ صلی الی یکم سے ملا مصافحہ کیا ہے۔بلکہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علی نکم نے مجھے بلا بھیجا۔میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔جب میں گھر آیا اور مجھے بتایا گیا تو میں حضور علی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور اس وقت بستر پر تھے۔حضور صلی الی یکم نے مجھے اپنے گلے کے ساتھ لگا لیا اور معاللہ کیا۔اس خوش نصیبی کے کیا کہنے۔