حدیقۃ الصالحین — Page 363
363 مة الشرسة حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یم نے ابو الہیشم بن تیہان سے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم ہے انہوں نے عرض کیا۔نہیں۔نبی صلی علیم نے فرمایا جب میرے پاس کوئی قیدی آئے تو آنا۔نبی صلی الیکم کے پاس دو قیدی آئے تو اس وقت ابوالہیشم حضور علی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔نبی صلی ا ہم نے ان سے فرمایا کہ ان دو قیدیوں میں سے جو تمہیں پسند ہو وہ لے لو۔ابو الہیشم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرے لئے آپ صلی یکم خود پسند فرماویں۔اس پر نبی صلی علیم نے فرمایا ” المستشار موتمن“ کہ جس سے مشورہ مانگا جائے اسے امین ہو نا چاہئے یعنی وہ صحیح مشورہ دے۔پھر ایک قیدی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ لے لو، سیہ اچھا ہے میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر فرمایا اس سے اچھا سلوک کرنا۔414- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مَشُورَةٌ لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ترمذی کتاب الجهاد باب ما جاء في المشورة 1714) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی المی کم سے بڑھ کر کسی اور کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔-415 عَنِ ابْنِ عَلمُ الْأَشْعَرِي: أَنَّ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم قال لأبي بكر، وعمر لو اجْتَمَعْنَا فِي مَشُورَةٍ مَا خَالَفْتُكُمَا ( مسند احمد بن حنبل ، مسند الشاميين ، حديث عبد الرحمن بن غنم الاشعری 18157) ย حضرت ابن غنم الاشعری سے روایت ہے کہ نبی صلی الیم نے (ایک بار) حضرت ابو بکر اور حضرت عمر سے فرمایا جب تم دونوں کوئی متفقہ مشورہ دیتے ہو تو پھر میں اس کے خلاف نہیں کرتا ( یعنی تم دونوں کے متفقہ مشورہ کی قدر کرتا ہوں)۔