حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 355 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 355

355 ماں باپ کی خدمت اور صلہ رحمی 401- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي ؟ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ أَمكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ أَبُوكَ بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة (5971) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی الی ظلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے ؟ آپ صلی اللہ میں نے فرمایا تیری ماں۔پھر اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی للی یم نے فرمایا تیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی کم نے فرمایا تیری ماں۔اس نے چوتھی بار پوچھا۔پھر کون؟ آپ صلیالی کم نے فرمایاماں کے بعد تیر اباپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار )۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ أُمُّكَ، هُمَّ أَمكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أَبُوكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ (مسلم کتاب البر والصلة باب بر الوالدين و انهما احق به 4608) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللی کم لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا حقدار کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں پھر تیری ماں، پھر تیری ماں پھر تیر اباپ پھر جو تیرے قریب تر ہے۔جو تیرے قریب تر ہے۔