حدیقۃ الصالحین — Page 338
338 375 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ عُسْفَانَ وَرَسُولُ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَقَدْ أَرْدَفَ صَفِيَّةٌ بِئْتَ حُيَنٍ، فَعَثَرَتْ نَاقَتُهُ، فَصْرِعًا جَمِيعًا ، فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ عليك المرأة، فَقَلبَ قَوْبًا عَلَى وَجْهِهِ، وَأَتَاهَا، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهَا، وَأَصْلَحَ لَهُمَا مَرْكَبَهُمَا، فَرَكِبًا (بخاری کتاب الجهاد باب ما يقول اذا رجع من الغزو 3085) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔جب آپ عسفان سے لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ نے حضرت صفیہ بنت حی کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔آپ کی اونٹنی نے ٹھو کر کھائی اور دونوں گر پڑے۔حضرت ابو طلحہ یہ دیکھ کر فوراً اونٹ سے کو دے اور بولے: یارسول اللہ ! میں آپ پر قربان۔آپؐ نے فرمایا اس عورت کی خبر لو۔حضرت ابو طلحہ نے اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیا اور حضرت صفیہ کے پاس آئے اور وہ کپڑا اُن پر ڈالا اور ان دونوں کی سواری درست کی جس پر وہ سوار ہو گئے۔376 - عَن أبي هريرة، قال قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رحم الله رَجُلا قَامَ مِن اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى، نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ (ابوداؤد کتاب التطوع ، ابواب قيام الليل ، باب قيام الليل 1308) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم کرے جو رات کو اٹھا اور اس نے نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اگر اس نے انکار کیا اس نے اس کے چہرے پر پانی چھڑ کا۔اللہ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھی اس نے نماز پڑھی اور اپنے خاوند کو جگایا اگر اس نے انکار کیا اس نے اس کے چہرے پر پانی چھٹڑ کا۔