حدیقۃ الصالحین — Page 307
307 کہا ہے۔جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ابوسفیان بولا: یہ معرکہ بدر کے معرکے کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے۔(کبھی اس کی فتح اور کبھی اس کی )۔تم ان لوگوں میں کچھ ایسے مردے پاؤ گے جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہیں۔میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور میں نے اسے برا بھی نہیں سمجھا۔پھر اس کے بعد وہ یہ رجزیہ فقرہ پڑھنے لگا: ہل کی ہے۔جہل کی ہے۔نبی صلی علیکم نے فرمایا کیا اسے جواب نہیں دو گے ؟ صحابہ نے کہا یار سول اللہ اہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا تم کہو۔اللہ ہی سب سے بلند اور بڑی شان والا ہے۔پھر ابوسفیان نے کہا غربی نامی بت ہمارا ہے اور تمہارا کوئی مغربی نہیں۔نبی صلی الیم نے یہ سن کر فرمایا کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟ حضرت براء بن عازب کہتے تھے صحابہ نے کہا یارسول اللہ ! ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا کہو اللہ ہمارامد دگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔330 - عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَقَدِمْنَا المَدِينَةَ، فَاخْتَبَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا: هَلَكْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ، نَحْنُ الفَزَارُونَ، قَالَ بَلْ أَنْتُمُ العَكَارُونَ، وَأَنَا فِتَتُكُمْ (ترمذی کتاب الجهاد باب ماجاء فى الفرار من الزحف 1716) الله سة حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے ہمیں ایک فوجی مہم کے لئے بھیجا۔لوگ ڈر کر بھاگ آئے۔جب مدینہ پہنچے تو چھپتے پھرے اور ( پشیمان ہو کر ) کہنے لگے کہ ہم تو ہلاک ہو گئے۔پھر ہم رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور صلی ال لی کہ ہم بھاگنے والے ہیں۔( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی الیم نے (ہماری تسلی کی خاطر ) فرمایا نہیں بلکہ تم تو ٹھکانے پر تازہ دم ہونے اور تقویت حاصل کرنے کے لئے آئے ہو۔کیونکہ میں تمہارا ٹھکانہ تمہارا مددگار اور تمہاری پناہ ہوں۔