حدیقۃ الصالحین — Page 303
303 جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانچتے تو ان کا سر کھل جاتا تو نبی صلی علیم نے ہمیں فرمایا ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (خوشبو دار گھاس) ڈال دیں۔327- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي: يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا ؟ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي (و قُتِلَ يَوْمَ أُحَدٍ) وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللهُ بِهِ أَبَاكَ ؟ قَالَ : قلتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ۔قَالَ مَا كَلَّمَ اللهُ أَحَدًا قَدُ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا۔فَقَالَ يَا عَبْدِى تَمَنَ عَلَى أُعْطِكَ۔قَالَ يَا رَبِ تُحْيِينِي فَأَقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً۔قَالَ الرَّبُّ تبارک و تعالىٰ إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ (ترمذی کتاب التفسير باب و من سورة آل عمران 3010) حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی للی یکم مجھ سے ملے۔حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے جابر آج میں تمہیں پریشان اور اداس کیوں دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کیا حضور میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور کافی قرض اور بال بچے چھوڑ گئے ہیں۔حضور فرمانے لگے کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ کس طرح تمہارے والد کی اللہ تعالیٰ کے حضور پذیرائی ہوئی۔میں نے عرض کیا ہاں حضور ! ضرور سنائیں اس پر آپ صلی علیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اگر کسی سے گفتگو کی ہے تو ہمیشہ پردہ کے پیچھے سے کی ہے لیکن تمہارے باپ کو زندہ کیا اور اس سے آمنے سامنے گفتگو کی اور فرمایا میرے بندے مجھ سے جو مانگتا ہے مانگ۔میں تجھے دوں گا تو تمہارے والد نے جو ابا عرض کیا اے میرے رب میں چاہتا ہوں کہ تو زندہ کر کے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ تیری خاطر دوبارہ قتل کیا جاؤں۔اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں یہ قانون نافذ کر چکا ہوں کہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں نہیں لوٹاؤں گا۔